Breaking NewsNationalتازہ ترین

کپاس کے کاشتکاروں کے لئے15 جون تک کی سفارشات جاری کر دی گئیں

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا چھٹا اجلاس ڈائریکٹرbسی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت ونگہداشت سے متعلق آئندہ پندرہ روزہ سفارشات 15جون تک کے لئے پیش کی گئیں۔

اجلاس میں بتایا گیاکہ ایسے کاشتکار جنہوں نے ناگزیر وجوہات کی بنا پر اب تک کپا س کاشت نہیں کی اور وہ فصل کاشت کرنا چاہتے ہیں تو وہ15جون تک وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی منظور شدہ اقسام بی ٹی سی آئی ایم678،بی ٹی سی آئی ایم 343 اور دیگر اقسام کاشت کریں۔

کاشتکارپودوں کی تعداد23تا35ہزار فی ایکڑ رکھیں اور مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے لئے پودوں کا درمیانی فاصلہ6انچ رکھیں۔

اجلاس میں بتایا گیا فصل کی چھدرائی کا عمل20-25دن میں مکمل کرلیا جائے اور دوران چھدرائی کمزور اور بیماری سے متاثرہ پودوں کوتلف کردیا جائے۔

جڑی بوٹیوں کی افزائش کو روکنے کے لئے مناسب وقت پر آبپاشی کی جائے اور ان کی تلفی کے لئے بذریعہ مربوط طریقہ انسداد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں بتایا کہ اگر جڑی بوٹیوںکے کنٹرول پر توجہ نہ جائے تو اس سے 30فیصد تک پیداوار کا نقصان ہو سکتا ے اور فصل کے پہلے60دنوں میں جڑی بوٹیوں کے کنٹرول پر خاص توجہ دی جائے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جڑی بوٹیوں کے مشینی طریقہ انسداد کے لئے پہلے50دنوں تک روٹری ہو)ہل( کا استعمال نہایت مؤثر ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے گلائیفوسیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی ہیں اور ان کی فصل40-45دن کی ہوچکی ہے تو وہ کھڑی فصل میںگلائیفوسیٹ بحساب ایک لٹر100لٹر پانی کی مقدار میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں جبکہ روائتی کپاس کاشت کرنے والے کاشتکار گلائیفوسیٹ سپرے کے لئے شیلڈ کا استعمال لازمی کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جس کا قد بڑھوتری کی طرف مائل ہو اور وہ پھل نہیں اٹھا رہی تو اس فصل میں آبپاشی کا دورانیہ بڑھا دیں اور نائٹروجنی کھادوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔

کاشتکار چھدرائی کے عمل کے بعد کپاس کی فصل میں فاسفورس کھاد کی مقدارڈے اے پی ایک بوری یاٹی ایس پی ایک بوری یا ایس ایس پی تین بوریاں فی ایکڑ یا این پی دو بوریاں فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں۔

ایسی فصل جس میں پھول اور ٹینڈے بننے کا عمل شروع ہے اور ابھی تک اس میں پوٹاش کا استعمال نہیں کیا گیا ہے تو کاشتکار اس فصل میں 10 تا 20 کلوگرام ایس او پی یا ایم او پی بذریعہ آبپاشی دیں ۔

کاشتکار کپاس کی فصل میں لگے ڈوڈی اور ٹینڈوں کی حفاظت اور ان میں اضافہ کے لئے2کلوگرام بورک ایسڈاور6کلوگرام زنک سلفیٹ بذریعہ آبپاشی دیں یا150گرام بورک ایسڈاور250گرام زنک سلفیٹ علحیدہ علحیدہ پانی میں حل کرکے محلول بنا لیں اور اس محلول کو100لٹر پانی کی مقدار ملا کر سپرے کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی کپاس جو بیج کے حصول کے لئے لگائی گئی ہے اس میں کاشتکار روگنگ کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیں یعنی غیر متعلقہ قسم کو کھیت سے باہر نکال دیں۔ اس فصل کو کسی بھی قسم کی زرعی مداخل کی کمی نہ آنے دیں۔

کاشتکار پہلی چنائی والی کپاس کا بیج ہرگز نہ بنائیں۔اور ایسی فصل جو جھلساؤ کا شکار ہو تو کاشتکار کسوگا مائی سین+کاپر آکسی کلورائیڈ(280گرام) فی ایکڑ کے حساب سے ایک ہی نکے سے دوران بذریعہ آبپاشی فلڈ کریں۔اگر فصل پردیمک کا شدیدحملہ ہوجائے تو کاشتکار کلوروپائیریفاس 1000ملی لٹر یا فیپرونل480ملی لٹر دونوں کو ملا کر ایک ہی نکے سے دوران آب پاشی فلڈ کریں اور اگر شدید حملہ ہونے کی صورت میں مذکروہ زہروں میں سے کوئی ایک استعمال کریں۔

اجلاس میں سفید مکھی سے بچاؤ کی صورت میں پیلے لیس دار چپکنے والے پھندے بحساب10عدد فی ایکڑ کے استعمال کی سفارشات پیش کی گئیں۔ سفید مکھی کے شدید حملہ کی صورت میں کاشتکار پائیری پروکسفین 400ملی لٹر یا سپائروٹیٹرامیٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر یا فلونیکا مڈ80گرام یا ایسیٹا میپریڈ150ملی لٹر پانی کی100لٹر مقدار میں ملا کرفی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جہاں ڈوڈی بننے کا عمل شروع ہوچکا ہے وہاں گلابی سنڈی کے حملہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لئے1جنسی پھندہ لگائیں جبکہ مینجمنٹ کے لئے8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائے جائیں۔

اس کے علاوہ کاشتکار گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے پی بی روپس کا استعمال بھی لازمی کریں۔ جب فصل پر ڈوڈیاں لگان شروع ہوں تو کاشتکار120پی بی روپس فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں۔

شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ، ڈاکٹر فیاض احمد، ڈاکٹر ادریس خان،میڈم صباحت حسین ،ساجد محمود اورڈاکٹر رابعہ سعید نے شرکت کی۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ ساتواں اجلاس16 جون کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں