Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

بارشوں کے بعد کپاس کے کاشتکار اپنی فصل کو کیڑوں کے حملہ سے بچائیں : ڈاکٹر زاہد محمود

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمودنے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہا ہے کہ کپاس کے مختلف علاقہ جات میں سی سی آر آئی ملتان کے سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حالیہ باشوں کے نتیجے میں کپاس کی فصل پر مختلف کیڑے مکوڑوں کا حملہ مشاہدہ میں آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کپاس کے کیڑوں سے فصل کی حفاظت بہت اہم ہے۔ کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ باقاعدگی سے پیسٹ سکاوٹنگ کرتے رہیں۔ کپاس پر سفید مکھی کے حملہ کی صورت میں کپاس کے کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ سفید مکھی کے 5 فی پتہ بچہ اور بالغ نظر آنے پرپائری پراکسفین400ملی لیٹر یا بیپروفیزن600گرام یا فلونیکامیڈ80گرام یا سپائرو ٹیٹرامیٹ 125ملی لٹر+ایڈجیونٹ 250 ملی لٹر 100 لیٹر پانی کے ساتھ فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں، اور گر کپاس کی فصل پر سبز تیلے کا حملہ ایک فی پتہ ہو توکپاس کے کاشتکار فلونیکا میڈ60گرام یا نائٹن پائرم بحساب 60گرام/ 200ملی لیٹر یا ڈائی نوٹیفرون 100گرام زہریں100 لیٹر پانی کے ساتھ فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

جبکہ کپاس کی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے کاشتکار 8 عدد جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں ۔

اگر 3 مسلسل راتوں کی اوسط 3-4 پروانے فی پھندا نظر آئیں تو سپرے کیا جائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ کپاس کی جڑی بوٹیوں کی تلفی بھی بہت اہم ہے۔ یہ بھی کیڑوں کی آماجگاہ کا کام دیتی ہیں۔

لہٰذا تمام جڑی بوٹیوں کی تلفی بھی فصل کی اچھی صحت کی ضامن ہے۔ کاشتکار حضرات کو چاہئے کہ وہ پیسٹ سکاوٹنگ کے ذریعہ کیڑوں کی معاشی حدکے مطابق سپرے کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھاد اور پانی پر خصوصی توجہ دیں، کپاس کی چھدرائی اور گوڈی پر توجہ دیں۔

جڑی بوٹیوں کا مکمل خاتمہ کریں اور کاشتکار حضرات کو چاہئے کہ زیادہ پیداوار حاصل کر نے کے لئے بہتر نگہداشت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button