Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

اینٹی کرپشن نے زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر کے خلاف کرپشن کے الزامات پر باقاعدہ انکوائری شروع کردی

زکریا یونیورسٹی کے شعبہ بی فارمیسی کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل ارشد پر موبائل فون کے جعلی بل جمع کرانے اور خزانے کو نقصان پہنچانے پر اینٹی کرپشن میں ایک سال سے زائد عرصے سے انکوائری چل رہی تھی، پروب انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب پروب انکوائری کی منظوری دیتے ہوئے ریگولر انکوائری کرنے اور انکوائری آفیسر کو نظر ثانی شدہ حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ، جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر انٹی کرپشن نے انکوائری فائل/متعلقہ ریکارڈ فوری طو پر جمع کرانے کے احکامات جاری کردئیے۔

یہ بھی پڑھیں۔
محکمہ انٹی کرپشن نے زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر کو موبائل فون کے جعلی بل جمع کرانے پر آج طلب کرلیا

واضح رہے ایک شہر ی شیراز امجد نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر ارشد نے موبائل فون کے جعلی بل جمع کرانے پیسے وصول کرتا رہا جو 2022 میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے وائس چانسلر نے ایک انکوائری کمیٹی قائم کردی، مقرر کردہ کمیٹی کی ایک ابتدائی تحقیقات میں بلوں کو جعلی قرار دیا گیا، ان نتائج کی تصدیق موبائل سروس فراہم کنندہ یو فون نے بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں۔
زکریا یونیورسٹی : ڈین آف فارمیسی کے امیدوار پر جعلی بل جمع کرانے پر انکوائری، چانسلر کو درخواست دے دی گئی

کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے باوجود، پروفیسر ڈاکٹر ارشد کا نام فیکلٹی آف فارمیسی کے ڈین کے طور پر غور کے لیے بھیجا گیا،جب جعلی بل کی شکایت پر گورنر ہاؤس نے وضاحت طلب کی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک نئی تحقیقات کمیٹی تشکیل دی ہے، جو بظاہر پروفیسر ڈاکٹر ارشد کو فائدہ پہنچانے کے لیے پچھلی کمیٹی کے نتائج سے متصادم ہے۔

رپورٹوں کے مطابق، نئی تشکیل شدہ کمیٹی کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر ناظم لابر کر رہے ہیں، جن کا کردار متنازعہ ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ارشد کو پہلے سکالرشپ سیل کے ڈائریکٹر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، جو طلباء میں بھاری رقم کی تقسیم کے ذمہ دار تھے، جسے انہوں نے مبینہ طور پر یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں

محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے پروفیسر ڈاکٹر ارشد کے خلاف الزامات پر رپورٹ طلب کی گئی تھی، لہذا انٹی کرپشن ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے تاکہ اہم انتظامی عہدے اور سرکاری وسائل کی حفاظت کی جاسکے اور یونیورسٹی کے اندر تعلیم اور تحقیق کی بہتری کو ممکن بنایا جاسکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button