Breaking NewsEducationتازہ ترین

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں باخبر کسان کے وفد کا دورہ

باخبر کسان ایک آئی ٹی کمپنی ہے جو کہ کسانوں کو کاشت کاری بارے ایڈوائزری، موسمیات،لائیو سٹاک، موسمیات اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔

اس کمپنی کا مقصد کسانوں تک بروقت معلومات کی فراہمی ہے۔

وفد نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) سے ملاقات کی، اور با خبر کسان کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو کسان تک پہنچانا یونیورسٹی کاعزم ہے۔

زرعی جامعہ ملتان ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جس سے کسان پہلے سے زیادہ آگاہ ہو۔

یونیورسٹی میں مختلف کانفرنسز،سیمینار،کسان میلے، کاٹن ایڈوائزری اور فیسٹیول کے ذریعے اپنے کسان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

یونیورسٹی میں موجود ریسرچ فارمر فوکسڈ ہے۔گندم اور کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے جامعہ کے طلباء وطالبات کمپین پر ہر ضلع میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید انہوں نے یونیورسٹی کے مستقبل کے پروجیکٹس پر بھی روشنی ڈالی۔

بعد ازاں ڈاکٹر فواد احمد ظفر خاں کی سربراہی میں وفد کو یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کروایا گیا۔

ڈاکٹر کاشف رزاق نے سمال ٹری سسٹم کے بارے میں معلومات دیں، اور بتایا کہ یہ سسٹم کلائمٹ چینج کے پیش نظر بہت اہم ہے اور اس سے أم کی بہتر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے وفد کو مینگو نرسری کا بھی دورہ کروایا ،جس میں آم کی پیوند کاری کے بعد افزائش کی جاتی ہے نرسری کو جدید اصولوں کے مطابق چلایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ حکیم نے وفد کو سمارٹ ٹریپ کے متعلق معلومات دیں ، اور بتایا کہ یہ ٹریپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ٹریپ میں آنے والے کیڑوں کی پہچان کرتا ہے، اور اس کی وجہ سے کاشتکار بروقت فیصلہ کر سکتے ہیں۔

وفد نے سمارٹ ٹریپ کے مختلف حصوں کے بارے میں بھی معلومات لیں اور اس ٹیکنالوجی کو خوب سراہا۔

وفد نے مینگو ڈرائنگ پروسس یونٹ،جو کہ أم کو سکھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے کا بھی دورہ کیا، جو کہ أم کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر سکھایا جاتا ہے اور بقیہ أم کو پلپ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

وفد کو ڈاکٹر عثمان لیکچرار فوڈ سائنس نے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفد نے کچن گارڈننگ اور مچھلی پالنے کے لئے کم لاگت سے بننے والے بائیوفلاک منصوبے کا بھی دورہ کیا۔

ڈاکٹر نبیل احمد اکرام لیکچر ایگرانومی منصوبہ جات کے بارے میں تفصیلی بتایا۔کچن گارڈننگ سے کم لاگت میں صحت بخش اور زہروں سے پاک سبزیات حاصل ہوتی ہیں جبکہ بائیوفلاک سے مچھلی پال حضرات کم جگہ میں زیادہ پیداوار لے سکتے ہیں۔

بعد ازاں وفد نے یونیورسٹی فارمز پر ہائیڈرو پونک ٹیکنالوجی کا دورہ کیا۔

لیکچرار ہارٹیکلچر رانا عثمان نے مختلف حصوں کے بارے میں بریفنگ دی، اور بتایا کہ ہائیڈروپونک یونٹ سے صاف سبزیات کا حصول ممکن ہے۔

آخر میں وفد نے یونیورسٹی میں مالیکیولر لیب کا دورہ کیا، ڈاکٹر ذوالقرنین خان نے لیب کی کامیابیوں اور اس میں موجود سہولیات سے وفد کو آگاہ کیا۔

وفد نے بزنس انکوبیشن سنٹر کا بھی دورہ کیا، وہاں موجود سٹارٹ اپ کمپنیوں کے بارے میں معلومات بھی دی گئی۔

باخبر کسان کے وفد نے زرعی جامعہ ملتان کی اتنے کم عرصے میں نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اپنی شناخت کروانے پر مبارکباد دی۔

اس موقع پر باخبر کسان کی طرف سے رضوان خان اور ان کی ٹیم موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں