بھیک کے تدارک کے حوالے سے سیمینار

شعبہ سوشیالوجی زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیر اہتمام بھیک کے تدارک کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر کامران اشفاق نے اپنی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کس طرح اینٹی بیگری پر کام کر رہی ہے، انہوں نے بھیک مانگنے کی معاشرتی وجوہات بیان کیں اور پالیسی سطح پر مختلف تجاویز پیش کیں تاکہ اس سماجی مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
شاہد محمود انصاری، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھیک مانگنے کی بڑی وجوہات میں خاندانی مسائل، معاشرتی بے نظمی اور فقیروں کے مابین مقابلہ بازی شامل ہے ہمیں بھیک دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ مدد کے مستحق کون ہیں۔
انہوں مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق فقیروں کی بحالی کے لیے حکومت کو سکل ڈویلپمنٹ پروگرام اور ریہیبلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے چاہئیں۔
ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ام فروا ہمدانی نے کہا کہ فقیری کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بحالی مراکز قائم کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے 1958ء کے انسدادِ فقیری آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
انہوں نے بچوں کی فقیری کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ہر ضلع میں ریہیبلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے چاہئیں تاکہ تعلیم و ہنر کے ذریعے فقیروں کو باعزت زندگی دی جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس، ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ سینٹر، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نے کہا کہ فقیری نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کا مسئلہ ہے۔
چیئرمین شعبہ سوشیالوجی، ڈاکٹر امتیاز احمد وڑائچ نے کہا کہ ملتان شہر میں اس وقت چار سے پانچ ہزار فقیر موجود ہیں جو شہر کی خوبصورتی کو متاثر کر رہے ہیں اگر ہر شخص ایک یا دو فقیروں کو تعلیم اور ہنر کی طرف لانے کا بیڑا اٹھا لے تو اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے۔
سیمینار میں ڈاکٹر صائمہ افضل، ڈاکٹر صبغہ نور، سید احمد گیلانی، آصفہ اشرف، خالد اقبال، محمد اجمل خان، محمد زین کاظمی، محمد عباس، شازیہ حیات، عبدالعزیز خان، پروفیسر امجد رامے، عامر نواز ملک اور محمد اقبال بلوچ کے ساتھ کثیر طلباء و طالبات نے شرکت کی۔


















