Breaking NewsNationalتازہ ترین

کپاس کے کاشتکار جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی اور کھادوں کے استعمال بارے ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں: ڈاکٹر زاہد محمود

کپا س کے کاشتکار اچھی پیداوار کے حصول کے لئے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی اور کھادوں کے استعمال بارے زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔

یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے کپاس کے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہکپاس کی پیداوار میں کمی کا سبب بننے والے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں سے پہنچنے والا نقصان بھی ایک اہم وجہ ہے اس لئے کپاس کے کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ اچھی پیداوار کے حصول کے لئے کھیت سے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کو ہر صورت ممکن بنائیں ۔

ڈاکٹر زاہد کا کہنا تھا کہ کھیت میں جڑی بوٹیاں کپاس کی فصل کو بالواسطہ اور بلا واسطہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر جڑی بوٹیوں کے خاتمے پر توجہ نہ دی جائے تو یہ 20سے30فیصد تک نقصان پہنچاتی ہیں۔اسی لئے کپاس کی جڑی بوٹیوں خاص کر اِٹ سٹ ، لمب ، مدھانہ گھاس ، جنگلی چولائی ، لہلی، قلفہ ، تاندلہ ، ہزار دانی اور ڈیلا وغیرہ کی بروقت تلفی نہایت ضروری ہے اور کاشتکار کپاس کی بوائی کے25تا45دن کے اندر اندر کھیت میں ایک یا دو مرتبہ خشک گوڈی کریں یا پھر ٹریکٹر کی مدد سے ہل چلائیں تاکہ جڑی بوٹیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکے۔

کاشتکار کو چاہئیے کہ وہ خشک گوڈی کریں اور گوڈی کا عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک گوڈی سے فصل کو نقصان کا خدشہ نہ ہو۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے فاسفورسی کھادوں کے استعمال بارے کہا کہ کاشتکار کپاس کی فصل میں چھدرائی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے بعدڈے اے پی بحساب ایک بوری یاٹی ایس پی ایک بوری یا ایس ایس پی تین بوریاں یا این پی دوبوریاں فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں