Breaking NewsNationalتازہ ترین

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کا دوسرا پندرہ روزہ اجلاس

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا دوسرا پندرہ روزہ اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت سے متعلق آئندہ پندرہ روزہ سفارشات 15اپریل تک کے لئے پیش کی گئیں۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کپاس کے کاشتکار کپاس کی کاشت سے پہلے زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اور تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سفارش کردہ کھادوں کا استعمال یقینی بنائیں ۔

ایسے کاشتکار جو بجائی کرچکے ہیں اور انہوں نے اپنی زمین کا تجزیہ نہیں کرایا تو وہ کھاد ڈالنے سے پہلے اپنی زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں۔

کاشتکاروں کو سفارشات پیش کی گئیں کہ وہ گندم کے ناڑ کو آگ نہ لگائیں بلکہ زمین کی زرخیزی کو بڑھانے کے لئے گندم کے ناڑ کو زمین میں دبادیں۔اور گلنے سڑنے کے عمل میں تیزی لانے کے لئے آدھی بوری یوریا استعمال کریں، اور زمین کو پانی لگادیں۔ کپاس کے کاشتکار زمین کی تیاری کے وقت لیزر لینڈ لیولر کا ستعمال ضرور کریں اس سے پانی بچت ہوگی ،بیج کے اگاؤ میں بہتری آئے گی اور زمین کی زرخیزی برقرار رہے گی۔

لیزر لینڈ لیولر کے استعمال سے کپاس کی فصل ابتدائی مرحلہ میں مرجھاؤ کی بیماری سے محفوظ رہے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کینولہ اور آلو کے کاشتکار کپاس کی کاشت کو یقینی بنانے کے لئے زمین کی تیاری جلد از جلد مکمل کر لیں، اور کپاس کے بیج کا مناسب انتظام کرلیں اور بیج ہمیشہ قابل اعتماد ادارے یا مستند سیڈ کارپوریشنز سے لیں اور کپاس کے کاشتکار گریڈ کیا ہوا بیج ہی کاشت کریں۔

اجلاس میں کاشتکاروں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ پودوں کی قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً کریں تاکہ فصل تیز آندھیوں اور ہواؤں سے محفوظ رہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار کمزور زمینوں کی زرخیزی بڑھانے کے لئے سبز کھاد کے لئے لگائی گئی فصل کوکپاس کی بجائی سے15دن پہلے زمین میں دبا دیں یا جانوروں کا گوبر بحساب 5ٹرالی فی ایکٹر زمین میں ڈالیں۔

اجلاس میں شرح بیج کے حوالہ سے جو سفارشات پیش کی گئیں ان کے مطابق کاشتکار کھیلیوں میں کاشت کی صورت میں 90فیصد اگاؤ پر4.5کلوگرام، 75فیصد اگاؤ پر5کلوگرام اور60فیصد اگاؤ کی صورت میں6کلوگرام فی ایکڑ بر اترا ہوا بیج کاشت کریں، جبکہ بزریعہ ڈرل کاشت کی صورت میں 90فیصد اگاؤ پر9کلوگرام،75فیصد اگاؤ پر10کلوگرام اور60فیصد اگاؤ کی صورت میں12کلوگرام فی ایکڑ بر اترا ہوا بیج کاشت کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ بوقت ضرورت استعمال کے لئے 10فیصد بیج کا اضافی بندوبست کریں۔

کاشتکار چھدرائی اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے بعد ڈی اے پی بحساب ایک بوری فی ایکٹر استعمال کریں۔

کپاس کے کاشتکار ریتلی زمینوں میں کاشتکار بر اترا بیج ہرگز استعمال نہ کریں۔ کاشتکار کپاس کے پودوں کی تعداد فی ایکڑ17500تا23000رکھیں اور کاشتہ کپاس کے بارے میں متعلقہ زرعی ماہر سے مشاورت ضرور کریں۔

کپاس کے کاشتکار بی ٹی اقسام کے ساتھ10فیصد نان بی ٹی بھی ضرور لگائیں جبکہ کپاس کی قسم کا انتخاب زمینی ساخت، اپنے علاقہ کی آب وہوا اور موسم کے مطابق کریں اور کاشت کی گئی اگیتی کپاس میں7دن کے اندر اندر ناغے پر کریں۔ اور ایسے کاشتکار جو فی ایکڑپودوں کی تعداد40ہزارتا45ہزار رکھنے کے خواہشمند ہوں تو وہ فصل کی مینجمنٹ ہائی ڈینسٹی کے طریقہ کار کے مطابق کریں اور متعلقہ بریڈر سے ضرور رہنمائی لیں۔ ہائی ڈینسٹی تجربات میں پودے کا پودے سے فاصلہ4انچ رکھاجائے۔

اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کو سفارشات ؛پیش کی گئیں کہ وہ کپاس کی کاشت سے پہلے بر اترے ہوئے بیج کی ٹریٹمنٹ ضرور کریں اور بیج کو بیماریوں اور رکپاس کے ر س چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کسی بھی اچھی کمپنی کی پھپھوند کش زہر یا کیڑے مار زہر کا استعمال لازمی کریں، اس عمل سے کپاس ابتدائی 30تا40دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے۔ اور جہاں پر کپاس کی کاشت کی جائے تو خیال رکھا جائے وہاں بھنڈی ،بینگن یا پیاز وغیرہ کی فصل موجود نہ ہو۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا گلابی سنڈی کے غیر موسمی تدارک کے لئے دیہاتوں میں موجود کپاس کی چھڑیوں کے ڈھیروں کو الٹ پلٹ کرنے کا عمل ہفتہ میں ایک آدھ بار کرتے رہیں۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر محمد ادریس خان، میڈم صباحت حسین ،ساجد محمود، ڈاکٹر رابعہ سعید اور آسیہ پروین ،سائنٹفک آفیسرنے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ تیسرا اجلاس16 اپریل کو منعقد ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں