Breaking NewsNationalتازہ ترین

کپاس کے کاشتکاروں کے لئے30اپریل تک کی سفارشات جاری کر دی گئیں

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کاتیسراپندرہ روزہ اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت سے متعلق آئندہ پندرہ روزہ سفارشات30اپریل تک کے لئے پیش کی گئیں۔

اجلاس میں زمین کی زرخیزی اور پیداوار کو بڑھانے اور اخراجات کو کم کرنے کے لئے کپا س کے کاشتکاروں کولیف ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا، اور اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے خواہشمند کاشتکاروں کو ادار ہ ہذا سے فوری رابطہ کرنے کی سفارش کی گئی۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ کاشتکار گندم کی ناڑ کو آگ نہ لگائیں بلکہ زمین کی زرخیزی کو بڑھانے کے لئے گندم کے ناڑ کو زمین میں دبادیں۔گلنے سڑنے کے عمل میں تیزی لانے کے لئے آدھی بوری یوریا استعمال کریں اور زمین کو پانی لگادیں۔اس کے علاوہ کپاس کے کاشتکار کپاس کی کاشت سے پہلے زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اور تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سفارش کردہ کھادوں کا استعمال یقینی بنائیں۔

کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ کپاس کی بجائی کے وقت یا زمین کی تیاری کے وقت فاسفورس کھادوں کا استعمال ہرگز نہ کریں،اس سے کھاد کا ضیاع بڑھ جاتا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کے کاشتکار فاسفورس کھاد چھدرائی کے بعد بذریعہ آبپاشی دیں یا کھیلیوں میں ڈال کر پانی لگا دیں ، جبکہ کاشتکار چھدرائی کے عمل کے بعد فاسفورس کھاد کی مقدارڈے اے پی ایک بوری یاٹی ایس پی ایک بوری یا ایس ایس پی تین بوریاں فی ایکڑ یا این پی دو بوریاں فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جڑی بوٹیاں کپاس کے ابتدائی مراحل میں فصل کو کافی نقصان پہنچاتی ہیں اس لئے کاشتکار ان کی تلفی کے لئے بذریعہ مربوط طریقہ انسداد یقینی بنائیں۔

کپا س کی بجائی سے پہلے پینڈی میتھالین بحساب1200ملی لٹر فی ایکڑ استعمال کریں یا پھر بجائی کے فوراً بعد24گھنٹے کے اندر اندر ایس مٹیلا کلور بحساب800ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔

کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ30تا40دن کی فصل میں جڑی بوٹیاں اگنے کی صورت میں بذریعہ گوڈی تلفی ممکن بنائیں یا گلائیفوسٹ بحساب1000ملی لٹر فی ایکڑ شیلڈ لگا کر جڑی بوٹیوں پر سپرے کریں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کاشتکار چھدرائی کا عمل 20تا25 دن تک مکمل کرلیں، اور چھدرائی کے دوران کھیت سے کمزور، غیر متعلقہ قسم اور بیماری سے متاثرہ پودوں کو نکال باہر کریں۔

اجلاس میں شرح بیج کے حوالہ سے جو سفارشات پیش کی گئیں ان کے مطابق کاشتکار کھیلیوں میں کاشت کی صورت میں 90فیصد اگاؤ پر 4.5 کلوگرام، 75فیصد اگاؤ پر5کلوگرام اور60فیصد اگاؤ کی صورت میں6کلوگرام فی ایکڑ بر اترا ہوا بیج کاشت کریں، جبکہ بزریعہ ڈرل کاشت کی صورت میں 90فیصد اگاؤ پر 9کلوگرام،75فیصد اگاؤ پر10کلوگرام اور60فیصد اگاؤ کی صورت میں12کلوگرام فی ایکڑ بر اترا ہوا بیج کاشت کریںاوراس کے ساتھ ساتھ بوقت ضرورت استعمال کے لئے 10فیصد بیج کا اضافی بندوبست کریں۔

اجلاس میں کاشتکاروں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ کپاس کے بیج کا مناسب انتظام کریں۔ بیج ہمیشہ قابل اعتماد ادارے یا مستند سیڈ کارپوریشنز سے لیں ، اور گریڈ کیا ہوا بیج ہی کاشت کریں۔اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کو سفارشات پیش کی گئیں کہ وہ کپاس کی کاشت سے پہلے بیج کی ٹریٹمنٹ ضرور کریں اور بیج کو بیماریوں اور رکپاس کے ر س چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کسی بھی اچھی کیڑے مار زہر کا استعمال لازمی کریں۔

اس عمل سے کپاس ابتدائی 30تا40دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے۔ اور جہاں پر کپاس کی کاشت کی جائے تو خیال رکھا جائے وہاں بھنڈی ،بینگن یا پیاز وغیرہ کی فصل موجود نہ ہو۔کاشتکار کپاس کے پودوں کی تعداد فی ایکڑ 17500 تا 23000 رکھیں، اور کاشتہ کپاس کے بارے میں متعلقہ زرعی ماہر سے مشاورت ضرور کریں۔

کپا س کی زیادہ پیداوار بڑھانے کے لئے ایسے کاشتکار جو فی ایکڑپودوں کی تعداد40ہزارتا45ہزار رکھنے کے خواہشمند ہوں تو وہ فصل کی مینجمنٹ ہائی ڈینسٹی کے طریقہ کار کے مطابق کریں اور متعلقہ بریڈر سے ضرور رہنمائی لیں۔کپاس کے کاشتکار بی ٹی اقسام کے ساتھ10فیصد نان بی ٹی بھی ضرور کاشت کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کپا س کی فصل کو سفید مکھی کے ابتدائی حملے سے بچاؤ کے لئے کاشتکار بحساب10 عددپیلے رنگدار چپکنے والے پھندے فی ایکڑ استعمال کریں۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ، ڈاکٹر فیاض احمد،ڈاکٹر محمد ادریس خان، میڈم صباحت حسین ،ساجد محمود اور ڈاکٹر رابعہ سعید نے شرکت کی۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ چوتھا اجلاس دو مئی کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں