Breaking NewsNationalتازہ ترین

سن لو یہ 70 کا نہیں سوشل میڈیا کا پاکستان ہے:عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کی نئی اننگ شروع ہوگئی انہوں نے سیاسی کیریئر کے ڈرامائی موڑ میں اپنی اہم ترین اننگ کا آغاز کردیا ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سابق وزیر اعظم نے جلسہ عام سے خطاب کیا،یہ اس لئے اہم ترین ہے کہ بطور وزیر اعظم معزولی کے بعد یہ ان کا پہلا جلسہ عام تھا۔پاکستانی عوام کو ان سے اہم ترین انکشافات اور مستقبل کی پلاننگ کی توقع تھی،اس لئے جلسہ میں حاضرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سوشل میڈیا،نیشنل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں نے ان کا خطاب لائیو سنا ہے۔

عمران خان نے پاکستان کے تمام اداروں سمیت سب سٹیک ہولڈرز کو کھری کھری سنادی ہیں۔

انہوں نے نیوٹرل کو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دیا،ججز کی راتوں کی عدالتوں کو چیلنج کیا۔ساتھ میں حقیقی آزادی کی جنگ شروع کرنے کا اعلان کردیا،ہر شہر میں جانےکا اعلان کیا۔

ڈیزل کے خلاف بھی بولے۔نواز شریف کو چیلنج کیا کہ ذرا پاکستان آو۔

انہوں نے کہا ہے کہ میرے نکالنے کی خوشی اسرائیل اور بھارت میں منائی گئی۔جس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی،اس نے خوشی منائی

وزیر اعظم کی سیٹ سے اتارے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے پہلے جلسہ عام میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہر وزیر اعظم کے نکالے جانے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی جاتی تھیں،پہلی بار ہماری قوم نے اس بار سڑکوں پر نکل کربتایا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔،میں یہ عزت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور آپ کا بھی۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم امریکن کے غلاموں کی غلامی کرنے آئے ہیں یا حقیقت میں آزادی لینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے۔ہم پر جو باہر سے حکومت مسلط کی گئی ،یہ سب مجرم اور ملزم ہیں۔ضمانت پر ہیں۔مفرور ہیں۔یہ کون لوگ ہیں جو یہاں حکومت کریں گے۔

یہ امریکن نے ہماری توہین کی ہے کہ اس ملک کے ڈاکو مسلط کردیئے،یہ قوم کبھی اس کو تسلیم نہیں کرے گی۔میں پاکستان کے ہر شہر میں نکلوں گا،ان بے غیرتوں کے خلاف لڑائی کروں گا۔

پاکستان کی تاریخ میں عوام کو اب جب میں سڑکوں پر نکالوں گا تو سمجھ آجائے گی۔جو بھی سمجھتا ہے کہ ہم قبول کریں گے۔سب کان کھول کر سن لو کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو والا پاکستان نہیں ہے،میر جعفروں کا پاکستان نہیں ہے،یہ سوشل میڈیا کا پاکستان ہے۔

6 کروڑ پاکستانی موبائل والوں کی زبان بند نہیں کرسکتا۔جس دن ہم نے کال دے دی،تمہیں چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی۔

عمران خان نے کہا ہے کہ میرے پیارے ججز،آپ کے لئے میں جیل گیا،کیونکہ ہم خوب دیکھتے ہیں کہ ایک دن عدلیہ کمزور کے ساتھ کھڑی ہوگی،میں اس عدلیہ سے پوچھتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں عدالت لگائی،کیا کبھی قانون توڑا۔کبھی کرکٹ کھیلتے مجھ پر فکسنگ کے الزامات لگے،میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔ججز جواب دیں کہ کیا ہے۔

ہمارے 2 ہیروز نکلے ہیں ،ایک علی محمد،تم نے تقریر کی،دوسرا ہیرو قاسم سوری ڈپٹی سپیکر تھا،ججز بتائیں کہ کیا قاسم سوری نے ٹھیک نہیں کہا تھا کہ مراسلہ میں واضح لکھا ہے کہ امریکا پاکستان کو دھمکی دے رہا ہے،عمران خان کو ہٹادو،سب معاف کردیں گے،او امریکن تم ہو کون،ہمیں معافی دینے والے۔تمہاری معافی کی ضرورت نہیں۔

عمران خان نے للکارا ہے کہ یہ چور ڈاکو ،ان کی غلامی کے لئے لائے گئے ہیں،جس سازش کے تحت ہٹایا گیا،میں اداروں سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارا نیوٹرل پروگرام پاکستان کی سکیورٹی ہے؟میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک الیکشن نہیں ہوتے۔انہوں نے کراچی جلسہ کے موقع پر پوری قوم کو پاکستان بھر میں نکلنے کا کہا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے،ہم اس سازش کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔پاکستان کا نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا کہ اللہ کے سوا کوئی ہمارا خدا نہی ہے،پھر کس سے ڈرنا ہے۔غیرت مند لوگوں کی عزت ہوتی ہے۔بے غیرتوں کی نہیں۔

انہوں نے نوجوانوں سے وعدہ لیا ہے کہ جب آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لا الٰہ الااللہ،تو آپ اللہ سے وعدہ لیتے ہیں تو یہ وقت آگیا ہےکہ اسے پورا کرو۔

عمران خان نے شہبار شریف کو بوٹ پالش،چیری پلاسم کہا ہے۔قائد اعظم کے مزار پر جانے والے شرم کرو۔

نواز شریف سمجھ رہا ہے کہ یہ این آر 2 مل جائے گا،کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔،میں اور میری قوم تمہارا انتظار کررہی ہے،غلط فہمی نکال دوں گا۔تہمارا ٹائم ختم ہوگیا ہے۔میں سڑکوں پر نکلوں گا،جب تک نکلوں گا،تب تک الیکشن نہیں ہوتے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ انشا اللہ،کامیابی اللہ دے گا،ہم کوشش کریں گے۔ہم الیکشن میں ان کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے،آخر میں ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ مشرف جب پاکستان کو باہر کی جنگ میں لے گیا تو سب سے زیادہ قربانیاں کے پی کے اور قبائلی علاقوں نے دیں،میں نے جب کہا تھا کہ میں امریکا کو پیس نہیں دوں گا،اس لئے کہ میں کبھی اپنی قوم کو استعمال نہیں ہونے دوں گا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ایک جانب ہم امریکا کی جنگ لڑرہے تھے تو دوسری جانب ذلیل کئے جارہے تھے،سہالہ اور ریمنڈ ڈیوس کا حوالہ دیا،26 ہمارے فوجی مارے گئے،امریکا نے مارا،نتیجہ میں ہمیں کیا ملا،میں ایک کیپٹن کی بیوہ سے ملا تھا،اس نے مجھے کہا تھا کہ جن کے لئے جنگ کررہے تھے،انہوں نے میرے خاوند کو مارا۔

میں کبھی اپنی قوم کو ایسی جنگ میں قربان نہیں کروں گا،آج سے حقیقی آزادی کی جنگ شروع ہے۔امپورٹڈ حکومت نامنظور۔ہمارے دشمن زیادہ خوش ہیں،میں حکومت سے باہر ان کے خلاف جتنا خطرناک ہوں گا،تم کو علم ہوجائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں