Breaking NewsSportsتازہ ترین

ہاکی ایسوسی ایشن کے الیکشنز پر آواز اٹھنے لگی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے زیراہتمام پنجاب کے 9 ریجن میں گرلز اور بوائز ہاکی ایسو سی ایشنز کے کروائے گئے تازہ ترین انتخابات بارے تحفظات کی صدائے بازگشت کی گونج قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی سنائی دینے لگی ۔

دوسری جانب ہاکی کے سابق عہدیداروں اور کھلاڑیوں نے باہمی رابطوں کے دوران حالیہ ڈی ایچ ایز الیکشن کے انتخابی عمل کو بوگس قرار دے کر شدید ردعمل کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاکی کلبوں کی سکروٹنی کے حقیقی روایتی عمل کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، اور سکروٹنی کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔

ماضی میں سکروٹنی کے عمل کے دوران رجسٹریشن کی خواہشمند کلبوں کے کھلاڑیوں کی موقع پر دستاویزات کے تحت شناخت کی جاتی تھی ، لیکن اس مرتبہ تو خفیہ طور پر ہاکی کلبوں کے انتخابات کا ڈرامہ بند کمروں میں رچادیا گیا ، اور متفقہ باڈیز کے نام پر ایسے من پسند افراد کو بھی ایسوسی ایشنز میں ایم عہدوں سمیت مجلس عاملہ میں شامل کیا گیا کہ جن کے اپنے ہاکی کلبز بھی فعال نہیں ہیں۔

دوسری جانب ملتان ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد چوہدری سابق اور سینئر کھلاڑی محمد ذولفقار نے بتایا کہ ڈی ایچ اے الیکشن سے قبل باقاعدہ تشہیر کی جاتی تھی، لیکن اس مرتبہ تو خفیہ طور پر ڈمی الیکشن کروا دیئے گئے ہیں ،اور ہمارے اس موقف کی تائید جن کھلاڑیوں اور آرگنائزرز نے کی ہے ، ان میں انٹرنیشنل کھلاڑی مقصود خان۔وسیم احمد ۔محمد ذوالفقار ۔ریاض خان۔محمدامین چوہدری ۔رانا نعیم ۔حافظ حسنین۔ سینئر کھلاڑی ساران قمر ۔محمد زین العابدین رحمت علی۔ سلیم اللہ۔ محمد تنویر ۔رصوان دانی۔ خلیل احمد ۔ عدیل احمد۔ عثمان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی کھیل کی ریجنل باڈیز کے نام پر الیکشن ڈرامہ کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

ہاکی فیڈریشن نے اپنے ڈولتے ہوئے اقتدار کو سہارا دینے کیلئے قومی کھیل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔

انہوں نے پاکستان سپورٹس بورڈ سے پی ایچ ایف کی نئی باڈی کی تشکیل اور علاقائی سطح پر حقیقی انتخابات کروانے کا مطالبہ بھی کیا ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں