Breaking NewsNationalتازہ ترین

ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دیکر مسترد کردیا

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔ تلاوت کلام پاک سے قومی اسمبلی اجلاس کا آغاز ہوا۔

اجلاس مقررہ وقت سے 38 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے کون بچائے گا پاکستان، عمران خان عمران خان کے نعرے لگائے۔ تحریک انصاف کے 17 ارکان قومی اسمبلی اپوزیشن لابی میں بیٹھے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے پہلے وقفہ سوالات شروع کرایا جس میں وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ہمارے سفیر کو طلب کیا جاتا ہے اور اس میٹنگ میں ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جا رہی ہے اور پاکستان سے تعلقات کا دارومداد اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے، ہمیں کہا گیا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو آپ کا اگلا راستہ سخت ہوگا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کیا یہ 22 کروڑ لوگوں کی قوم اتنی کمزور ہے کہ باہر کی طاقتیں ہماری حکومتیں بدل دیں، کیا یہ آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا پاکستانی عوام کتھ پتلیاں ہیں اور پاکستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیا ہم غلام اور اپوزیشن لیڈر کے بقول بھکاری ہیں، اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشہ مزید نہیں چل سکتا اور اس پر رولنگ آنی چاہیے۔

فواد چوہدری کی گفتگو کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قائد حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرائی بلکہ قاسم سوری نے کہا کہ وزیر قانون کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات بالکل درست ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو آئین و قانون کے منافی قرار دے کر مسترد کردیا اور اجلاس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پربحث بھی نہیں کرائی گئی۔

تحریک عدم اعتماد کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور خصوصا ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جبکہ شہر اقتدار میں دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ ہے، علاوہ ازیں میٹرو بس سروس کو بھی غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں