Breaking NewsNationalتازہ ترین

ڈائریکٹر سی سی آر آئی کی سربراہی میں چھ رکنی وفد کا بلوچستان کا دورہ

بلوچستان میں آر گینک کاٹن کی ترقی وفروغ کے لئے سازگارموسمی حالات کی بدولت ہم کپاس کی بہترین پیداوار حاصل کرکے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں ۔

یہ بات چھ رکنی رزعی ماہرین کے وفد کی سربراہی کرتے ہوئے ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے بلوچستان کے ضلع بارکھان میں لگے آرگینک کپاس کے کھیتوں میں اپنے وزٹ کے دوران کہی۔

وفد میں سنٹر فار ایگریکلچر اینڈ بائیو سائنس انٹرنیشل، نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر ایند بائیالوجی، ورلڈوائلڈ لائف فنڈ اور ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے زرعی ماہرین شامل تھے۔

اس موقع پر چھ رکنی وفد نے مقامی ترقی پسند آرگینک کاشتکار میر محمد کھیتران کے ہمراہ ضلع بارکھان میں 500 سے زائد ایکڑ پر مختلف جگہوں پر لگی آرگینک کپاس کا مشاہد کیا، کپاس کے مختلف کاشتکاروں سے ملاقاتیں کیں اور آرگینک کپاس کی اچھی پیداواری ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کاشتکاروں کو ٹریننگ بھی دی گئی۔

اس موقع پر وفد نے بلوچستان میں فارمر فیلڈ کے علاوہ سی سی آر آئی ملتان کی آرگینک اقسام سی آئی ایم554،سی آئی ایم620، سائیٹو124، سائیٹو226، سائیٹو230اور نیاب ادارہ کی نیاب کرن کے کھیتوں میں لگے مختلف ٹرائل کا بھی وزٹ کیا گیا۔

وفد نے مجموعی طور پر کپا س کی فصل کو تسلی بخش قرار دیا۔

ڈاکٹر زاہد محمود،ڈائریکٹر سی سی آر آئی نے بتایا کہ آرگینک کپاس کی کاشت کے حوالہ سے بلوچستان کا موسم،آب وہوا اور زمین کی ساخت بہت آئیڈیل ہے، اور بلوچستان میں کاشت ہونے والی آرگینک کپاس کا ریشہ کوالٹی کے لحاظ بہت بہترین اور فی ایکڑ پیداوار بھی کافی اچھی ہے۔

کپاس کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان میں بارشیں کافی ہوئی ہیں ، لیکن ضلع بارکھان میں کپاس بارشوں سے محفوظ رہی ہے اور اس وقت کپاس رس چوسنے والے کیڑوں سے مکمل محفوظ ہے جبکہ سبز تیلے کا معمولی حملہ کہیں کہیں مشاہدہ میں آیا ہے۔

ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ بارشوں سے بارکھان میں لگی کپاس پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور فی پودا اوسطاً15میچور ٹینڈے اٹھائے ہوئے ہے۔

اس موقع پر وفد کی جانب سے کپا س کے کاشتکاروں کو کھاد اور سپرے کے استعمال نہ کرنے کی سفارشات دی گئیں۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ آ ئندہ آنے والے دنوں میں کپاس پر فروٹنگ کی وجہ سے چتکبری سنڈی، امریکن سنڈی اور گلابی سنڈی کے شدید حملہ متوقع ہے۔اس لئے کاشتکار سنڈیوں سے بچاؤ کے لئے کھیتوں میں جنسی پھندے لگائیں۔

وفد نے کاشتکاروں کو 8عددجنسی پھندے فی ایکڑ لگانے ا ور الگ الگ سنڈی کے کنٹرول کے لئے ایک ہی ڈبے میں تین مختلف کیپسول کے استعمال کی سفارش پیش کی۔

اس کی افادیت بتاتے ہوئے ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف سنڈیوں کی مینجمنٹ اچھی ہوگی بلکہ آرگینک کپاس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

جبکہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر فی ایکٹر10عدد پیلے چپکنے والے لیسدار پھندوں کی بھی سفارشات پیش کی گئیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں