ویمن یونیورسٹی میں کاروباری آئیڈیاز کی نمائش کا اہتمام

ترجمان کے مطابق کاروباری آئیڈیا کے لئے تقریب کا اہتمام متی تل کیمپس میں کیا گیا جس میں ویمن ڈویلپمنٹ سینٹر کے زیرِ اہتمام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق یوتھ پچ آئیڈیا پروگرام بڑی کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر مس فرح ثاقب، ڈاکٹر شازیہ جبین (ڈائریکٹر ، ڈاکٹر رحیلہ، ڈاکٹر ثمینہ اسلم اور روشَن خان نے ججز کے فرائض سرانجام دیئے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ جبین کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد طالبات کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنی تخلیقی سوچ، کاروباری اہداف اور جدت پر مبنی آئیڈیاز کو سامنے لا سکیں، تاکہ مستقبل میں وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر ملک کی معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
طالبات کی محنت، معیار اور پیشہ ورانہ انداز قابل تحسین ہے ان کو اپنی فیلڈ کے ماہرین سے مستقبل میں بھی رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ یہ سوچ صرف ایک آئیڈیے تک محدود نہ رہے بلکہ باقاعدہ اسٹارٹ اپ کی شکل اختیار کرے۔
اس پروگرام نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور سوشیو- اکنامک ترقی کے لیے نئے دروازے کھول دیے اسلام کی پہلی کامیاب خاتون تاجر حضرت خدیجہؓ کے عملی نمونے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے طالبات میں یہ پیغام اجاگر کیا گیا کہ خواتین ہر دور میں کاروباری میدان کی معمار رہی ہیں، اور آج کی نوجوان نسل بھی اسی میراث کو آگے بڑھا رہی ہے۔یوتھ پچ آئیڈیا پروگرام نے نوجوان خواتین کے لیے نہ صرف نئے مواقع پیدا کیے بلکہ انہیں یہ یقین بھی دیا کہ وہ معاشرے کی مضبوط ستون ہیں، جو اپنی دانش، وژن اور قابلیت کے ذریعے ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تقریب میں 19 طالبات نے مختلف سماجی اور معاشی مسائل کے حل پر مبنی اپنی کاروباری تجاویز نمایاں انداز میں پیش کیں جن میں صحت، ماحولیات، پائیدار ترقی، جدید خوراک اور جدید ٹیکنالوجی جیسے موضوعات شامل تھے، جانچ کے بعد دو طالبات کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا۔
فائنلسٹس میں سدرة المنتهى کا پلینٹ بیسڈ میٹ پروجیکٹ خاص توجہ کا مرکز رہاان کا دعویٰ تھا کہ ان کا ہدف جانوروں کے گوشت کا ایک صحت بخش اور ماحول دوست متبادل فراہم کرنا ہے، جو پودوں سے تیار کردہ ہونے کے باعث نہ صرف کاربن فوٹ پرنٹ کم کرے گا بلکہ غذائی ضروریات بھی پورا کرے گا۔
دوسری فائنلسٹ ہما اسلم نے اپنی ساتھی بنیستہ بتول کے ساتھ مل کر نینو بائیو پلاسٹک بیگز تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ یہ تھیلے انتہائی کم وقت میں تحلیل ہونے کی خصوصیت کے حامل ہیں اور عام پلاسٹک کے مقابلے میں ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔




















