Breaking NewsNationalتازہ ترین

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی : کپاس کے کاشتکاروں کے لئے31 جولائی تک سفارشات جاری

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا نواں اجلاس منعقد ہوا ، جس کی صدارت ڈائریکٹر سی سی آر ملتان ڈاکٹر زاہد محمودنے کی۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے زرعی ماہرین نے بھرپور شرکت کی، اور ملکی سطح پر کپاس کی مجموعی صورتحال، کپاس کی نگہداشت اور خاص کر رواں ہفتے بارشوں کے نئے اسپیل پر بارشوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کے لئے 31جولائی تک کی سفارشات پیش کی گئیں۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ کپاس کے کاشتکار متوقع بارش کی صورت میں کھیت سے بارش کے پانی کے نکاس کا فوری بندوبست کر لیں اور 24 گھنٹے کے اندر اندر بارش کا پانی کھیت سے لازمی باہرنکالیں۔

کاشتکار احتیاطی تدابیر کے لئے کھیت کے ایک کونے میں4فٹ کا گہرا گھڑا کھود لیں تاکہ بارش کا پانی اس میں جمع ہو سکے اور اس کے نکاس میں آسانی ہو۔

کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے وتر آنے پر گوڈی کریں۔ بارشوں سے پہلے پہلے کاشتکار جڑی بوٹیوں کے تدارک اور زرعی زہروں کا استعمال یقینی بنائیں۔

اگر کپاس کا قد3 فٹ یا اس سے زائد ہے تو کاشتکار ٹریکٹر کے ذریعے گوڈی سے اجتناب کریں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی بیج بننے سے پہلے لازمی کی جائے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے گلائیفوسیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام( ٹرپل جین) کاشت کی ہیں تو وہ کھڑی فصل میںگلائیفوسیٹ بحساب ایک لٹر100لٹر پانی کی مقدار میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں ، جبکہ روائتی اقسام کاشت کرنے والے کاشتکار گلائیفوسیٹ سپرے کرتے وقت شیلڈ کا استعمال لازمی کریں۔

اجلا س میں کاشتکاروں کو سفارشات پیش کی گئیں کہ وہ بیج کے لئے لگائی گئی، کپاس میں روگنگ کا عمل ضرور کریں۔

بارش سے متاثرہ کھیت میں چنائی کے بعد کپاس کو اچھی طرح دھوپ لگوائیں اور خشک کرنے کے بعد اسے سٹور میں رکھیں جبکہ بیج میں نمی کا تناسب8-10 فیصد سے زائد نہ ہو۔

کاشتکار بارش کے بعد گری ہوئی فصل کو سیدھاکھڑا تاکہ پودوں میں لگا پھل گلنے سے بچ سکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اگر فصل پیلے پن کا شکار ہو جائے،پھل کے کیرا کا مسئلہ ہو یا پھر فصل بارش کے پانی کی وجہ سے سٹریس کا شکار ہو جائے تو کپاس کے کاشتکار سپلیمنٹ فارمولہ استعمال کریں جس کے لئے کاشتکار 500 گرام میگیشیم سلفیٹ،300گرام زنک سلفیٹ، 200گرام بوریکس،50گرام فیرس سلفیٹ اور2کلوگرام یوریا کاعلیحدہ علیحدہ محلول بنا لیں، اور پھر سب کو100لٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

اس کے علاوہ کاشتکار مذکورہ اشیاءکا 5 لٹر محلول بنائیں، اور ہر ٹینکی میں ایک ایک لٹر ڈال کر اسے پانی سے بھر لیں ، اور سپرے کریں۔

اس وقت کپاس کی فصل بھرپور پھل اٹھا ل رہی ہے۔اس مرحلہ پر کاشتکار فصل میں کھاد کی ہرگز کمی نہ آنے دیں۔کاشتکارسفارش کردہ کھادیں یعنی ایک بوری یوریا یا ایک بوری گوارا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ کا استعمال کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ فصل میں مرجھاؤ، جھلساؤ اور ٹینڈوں کی سڑن یا دیگر امراض کی بنیادی وجہ کھیت میں بارش کا پانی زیادہ دیر کھڑا رہنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس لئے کھیت سے بارش کا پانی نکالنے کا لازمی بندوبست کیا جائے۔کاشتکار جراثیمی جھلساؤ(Bacterial Blight) یا ٹینڈوں کی سڑن کی بیماری ہونے کی صورت میں کاپر آکسی کلورائیڈ + کسو گامائی سین250) گرام(بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کریں، جبکہ مرجھاؤ کی صورت میں تھائیو فینیٹ میتھائل400گرام یافوسٹائل ایلیومونیم 500 گرام یا میٹالگزل+مینکوزپ300)گرام( فی ایکڑ آبپاشی کے ساتھ فلڈ کریں۔

وائرس سے متاثرہ فصل کے لئے کاشتکاروں کوسپلیمنٹ فارمولہ استعمال کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں، اور بتایا گیا کہ بارشوں کے بعد وائرس سے متاثرہ فصل میں نشونما کا عمل دوبارہ سے ازخود شروع ہو جائے گا۔

اجلاس میں سفید مکھی سے بچاؤ کی صورت میں پیلے لیس دار چپکنے والے پھندے بحساب10عدد فی ایکڑ کے استعمال کی سفارشات پیش کی گئیں۔ سفید مکھی کے شدید حملہ کی صورت میں کاشتکار سپائرو ٹیٹرامیٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر یا فلونیکا مڈ80گرام یا ڈائی نوٹیفرون+بیپروفیزن مکسچر 250 گرام بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جہاں ڈوڈی بننے کا عمل شروع ہوچکا ہے وہاں گلابی سنڈی کا حملہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لئے1جنسی پھندہ فی پانچ ایکڑ لگائیں ، جبکہ مینجمنٹ کے لئے8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائے جائیں۔

جیسڈ/چست تیلے کے معاشی نقصان کی حد پر کاشتکار ڈائی نوٹیفرون100گرام یافلونیکا مڈ60گرام بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔

کاشتکار تھرپس کے معاشی نقصان کی حد تک پہنچنے پر کلورفینا پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام60ملی لٹر یا تھائیو میتھاکسن+ایبا میکٹن مکسچر400ملی لٹر بحساب100 لٹرپانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔

اگر فصل پردیمک کا شدیدحملہ ہوجائے تو کاشتکار کلوروپائیریفاس 1000ملی لٹر یا فیپرونل480ملی لٹر کو ایک ہی نکے سے دوران آب پاشی فلڈ کریں ۔

ملی بگ کے حملہ کی صورت میں کاشتکار پروفینو فاس70ملی لٹر یا کلوتھیان ڈن40ملی لٹر فی 20لٹر پانی کی ٹینکی کے ساتھ متاثرہ پودوں اور ارد گرد کے پودوں پر سپرے کریں۔

کاشتکار ڈسکی کاٹن بگ کے حملہ کی صورت میں کلوتھیان ڈن200ملی لٹر بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں