Breaking NewsEducationتازہ ترین

فارمرز ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد

ملتان ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے تجرباتی فارم جلالپور پیروالا میں شعبہ فلاحت اور فاطمہ فرٹیلائزر کے زیراہتمام کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے فارمرز ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

ورکشاپ میں خطے کے کاشتکارحضرات پرائیویٹ کمپنیوں اور زرعی اداروں کے نمائندگان زرعی جامعہ کی فیکلٹی نے حصہ لیا ۔

ورکشاپ کا آغاز جامعہ زرعیہ کے تحقیقاتی فارم کے دورے سے ہوا ۔جہاں شرکاء نے عملی سرگرمیاں سیکھیں تجرباتی فارم پر کاشتکاروں کو کپاس کی بحالی کے پروگراموں اور دیگر سرگرمیوں بارے زرعی سائنسدانوں نے آگاہی فراہم کی ۔کسانوں کو کپاس کی بحالی پودوں کی تعداد کے حصول جدید طریقہ کاشتکاری اور دشمن کیڑوں کی پہچان زرعی زہروں کے موثر استعمال اور فصل کو گرمی کی شدت سے بچانے کی تربیت دی گئی ۔

ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ فلاحت ڈاکٹر عبدالغفار نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فصلات کے زرعی مسائل کو ہمیشہ ترجیحاتی بنیادوں پر حل کرنے کی روش گامزن ہے ۔

مزید کہا کہ زرعی جامعہ ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز ) اور ان کی ٹیم کسانوں اور کاشتکاروں کی فلاح کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ۔

زرعی یونیورسٹی ایک ریسرچ ادارہ ہے جو کہ پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے کپاس کے معیاری بیج اور زیادہ پیداوار بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے ۔ڈاکٹر مقرب علی نے کپاس میں زرعی مداخل کے متناسب استعمال کی زرعی اہمیت کو اجاگر کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شعبہ زراعت کو مختلف قسم کے مسائل درپیش ہیں ۔جن میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات زیادہ ہیں انہوں نے کاشتکاروں کو زرعی سائنسدانوں سے مشورہ کر کے جدید طریقہ کاشتکاری کرنے پر زور دیا ۔

فاطمہ فرٹیلائزر کے نمائندے عمران حمید نے کہا کہ کپاس میں کھادوں کے متناسب استعمال بنیادی جزو ہے ۔اور نائٹروجن اور کیلشیم امونیم نائٹریٹ جیسی کھادوں کے استعمال پر زور دیا ۔

ڈاکٹر محمد نعیم اقبال جامعہ زرعیہ ملتان نے کپاس کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے مربوط طریقہ انسداد کے اہم نکات اور جدید سفارشات کا احاطہ کیا ۔مزید کہا کہ زرعی جامعہ کے ریسرچ فارم پر جو کپاس لگائی گئی ہے اس پر ابھی تک کوئی سپرے نہیں ہوا اور یہ فصل ابھی تک بیماریوں سے پاک ہے پی۔بی روب اور فیرامون کے استعمال سے فصلوں کے سپرے میں خاطر خواہ کمی کی جاسکتی ہے ۔

کسانوں کو اس قسم کی طریقہ کاشت کی ترغیب دی گئی اس طریقہ سے نہ صرف ہم کپاس کی بحالی کو ممکن بنا سکتے ہیں بلکہ اچھی پیداوار کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں ۔
ڈاکٹر حبیب الرحمان نے موسمیاتی پیشگوئی کے مطابق کپاس کے امور کاشتکاری کی ترویج پر تفصیلی گفتگو کی۔ڈاکٹر محمد ارسلان خان نے کپاس کی بیماریوں اور ان کے سدباب بارے بات کی ۔

ڈاکٹر محکم حماد نے تمام سٹیک ہولڈر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے زرعی جامعہ کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا ۔

آخر میں جڑی بوٹیوں اور ان کے انسداد کے موضوع پر شارٹ کورس مکمل ہونے پر کامیاب طلباء و طالبات میں سرٹیفکیٹ دیے گئے ۔

اس موقع پر ڈاکٹر عمار مطلوب خان اسسٹنٹ ڈائریکٹر توسیع زراعت جلالپورپیروالہ ازور گیلانی ڈاکٹر مبین ڈاکٹر محمد اکرام ڈاکٹر مدثر عزیز خان منیجر عابد رضا اسفندر یار طلباء و طالبات اور کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں