Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی کی اساتذہ اور طالبات کا فاطمید کےلئے خون کے عطیات

ویمن یونیورسٹی ملتان میں فاطمید کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا کے بچوں کے لئے بلڈ کیمپ لگایا گیا، جس میں فیکلٹی ممبران اور طالبات نے خون کے عطیات دیئے ۔

اس موقع پر خون عطیہ کرنے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا، جس کا اہتمام ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر ڈاکٹر عدلیہ سعید نے کیا تھا ۔

وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے بطور مہان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خون کا عطیہ دے کر کسی زندگی بچانا انسانیت کا انمول تحفہ ہے کسی بھی انسان کی زندگی کا دار و مدار خون پرہوتا ہے، یہ عطیہ عبادت سے کم نہیں ہے ۔

اس کیمپ کا مقصد بلڈ بینک کی خون کی ضروریات کو پورا کرنا ہے ،انسانیت کی سب سے عمدہ خدمت مریضوں اور لاچاروں کو اپنا خون عطیہ کرنا ہے، 65 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص رضا کارانہ طور پر سال میں چار مرتبہ خون کا عطیہ دے سکتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ خون کا عطیہ دینے سے موٹاپا ، امراضِ قلب اور کئی دیگر امراض سے بچا جا سکتا ہے، اور صرف یہی نہیں بلکہ خون کا عطیہ دینا ایک روحانی عمل ہے ، جس سے انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے ۔

محفوظ خون کی سپلائی اور خون کا عطیہ دینے والوں سے رابطہ رکھنا خون کا عطیہ دینے کے کیمپوں کا انعقاد کرنا بہت اہم ہے۔

تھیلسیمیا کا شکار بچوں کو تازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے خون کی فراہمی مسلسل ہونی چاہیے۔

1978 سے فاطمید نے جو قدم اٹھایا اور جو پودا لگایا وہ اب شجر بن چکا ہے، مگر اس کو ہماری ضرورت ہے ۔

ویمن یونیورسٹی ان کے اس نیک کاز میں ان کے ساتھ ہے اور یہ کیمپ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

سیمینار میں اساتذہ اور طالبات نے شرکت کی۔

بعد ازں بلڈ کیمپ لگایا گیا ، جس میں اساتذہ اور طالبات نے خون کا عطیہ دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں