Breaking NewsEducationتازہ ترین

یم این ایس زرعی یونیورسٹی میں ” فش فارمنگ” کے حوالے سے ٹریننگ پروگرام

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف فشریز اور سمیڈا کے تعاون سے ایک روزہ ” فش فارمنگ” کے حوالے سے ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
ٹریننگ پروگرام کی صدارت وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز)نے کی۔
ٹریننگ کروانے کا مقصد جنوبی پنجاب اور پاکستان کے فارمرز میں فش فارمنگ کو فروغ دینا تھا۔
ٹریننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ اس طرح کے پروگرامز ریسرچرز، فارمز اور طالب علم کے درمیان اشتراک پیدا کرتے ہیں، جس سے ہر ایک کو دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں فش فارمنگ دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی مقبول ہو تی جا رہی ہے۔بائیو فلاک سسٹم شہروں میں بہت کامیاب ہے اور اس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ مچھلی کے گوشت میں موجود پروٹین انسانی زندگی کا ایک اہم جز ہیں جو کہ ہر عمر میں انسانی نشو نما میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔ ہماری آبادی پروٹین کی کمی کا شکار ہے اور اس کا وا حد حل نئے ذرائعے متعارف کروانا ہے۔ مچھلی سے حاصل ہونے والا پروٹین غذائی اعتبار سے منفرد اور بہترین ہوتی ہے۔
ٹریننگ پروگرا م سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ فشریز زرعی جامعہ ملتان ڈاکٹر ناہید بانو نے فش فارم منیجمنٹ کے بارے آگاہ کرتے ہوئے مچھلی کے پالنے سے مارکیٹ جانے تک کی تمام پراسیسنگ کے مراحل پر روشنی ڈالی، اور کہاکہ اگر مچھلی کی منیجمنٹ درست طریقہ کار سے کی جائے تو مچھلی کو ایک سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سالٹ واٹر میں مچھلی چھوڑ کر اچھی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مچھلی سے بننے والی مختلف ڈشز پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہیں جبکہ یہ بچوں اور خواتین کی غذائی ضروریا ت کو پورا کرنے میں اہم کردار بھی ادا کرتی ہیں۔
اس موقع پرالطاف شاہد، ڈاکٹر آصف رضا، ڈائریکٹر فشریز ریاض الدین،ڈاکٹر عابدحسین، اور نبیل احمد سمیت فارمرز نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں