Breaking NewsEducationتازہ ترین

فوڈ سیکیورٹی اینڈ ویلیو چین کی بہتری کے لیے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں فوڈ سیکیورٹی اینڈ ویلیو چین کی بہتری کے لیے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔

اس دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے 300 کے قریب مندوبین نے شرکت کی۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ خطے میں غذائی تحفظ کی تشخیص سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کانفرنسز ابتدائی درجہ کے سائنس دانوں اور طلباء کے لئے حصول علم کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے گندم کی کاشت مہم کے لیے ٹیم کی کاوشوں پر بھی روشنی ڈالی، اور کہا کہ ہم گزشتہ سال ملتان ڈویژن میں وقت پر گندم کی بوائی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اس سال بھی گندم کی مہم کو موثر انداز میں مکمل کیا ہے۔

پاکستان پانی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔پانی کے متعلق مربوط حکمت عملی صوبے کے لحاظ سے بننی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں غذائی تحفظ کی تشخیص سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر آصف علی نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین اور فکلٹی ممبران کو سراہا۔

ماہرین نے ڈیجیٹل لٹریسی ٹولز کو شامل کرنے پر زور دیا ، اور اس پر اتفاق کیا کہ ویلیو چین اپروچ کو فوڈ سکیورٹی کے مسائل اور پائیدار کاروباری ماڈل کی ترقی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے،طلب اور رسد کو متوازن کرتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ نے کہا کہ خوراک کا تحفظ ایک عالمی مسئلہ ہے، اور یہ صرف عالمی تعاون سے ہی حل ہو سکتا ہے۔زرعی یونیورسٹی ملتان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو،فوڈ سیکیورٹی اینڈ ویلیو چین کانفرنس کامیابی سے تکمیل پذیر ہوئی۔

پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی نے محققین کی طرف سے کانفرنس کے مختلف سیشنز میں پیش کئے گئے مقالات کی روشنی میں سفارشات پیش کیں۔

خوراک کا تحفظ ایک عالمی مسئلہ ہے،یہ صرف عالمی تعاون سے ہی حل ہو سکتا ہے،سی پیک، ون بیلٹ اینڈ
ون روڈ انیشیٹو، مختلف ممالک میں خوراک کی بڑی منڈیوں خصوصاً چین میں نئی راہیں تلاش کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے،پاکستان کا خوراک کی مصنوعات میں برآمدات کا حجم بہت کم ہے اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔جو عالم مصنوعات کی پیداوار بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ملک کی شراکت سے ممکن وگی۔

غذائیت کے لئے فوڈ سسٹم کی تحقیق کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جانا چاہئے جو آبادی کو غذائی ضروریات کو پورا کرے۔

ماہرین نے ڈیجیٹل لٹریسی ٹولز کو شامل کرنے پر زور دیا اور اس پر اتفاق کیا کہ ویلیو چین اپروچ کو فوڈ سکیورٹی کے مسائل اور پائیدار کاروباری ماڈل کی ترقی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فوڈ سکیورٹی اور ویلیو چین میں بہتری سے متعلق مختلف سیشنز کے دوران تقریبا 180 مقالات جمع ہوئے اور محدود وقت کے باعث 60 مقالہ جات پڑھے گئے۔

یہ بین الاقوامی کانفرنس دو پالیسی سیشنز اور پانچ تکنیکی سیشنز پر مشتمل تھی۔

اس کانفرنس میں غذائی تحفظ اور ویلیو چین کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر مائیکل سپائس،پروفیسر رائے کولنز، پروفیسر ڈاکٹر ناصر ندیم،پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رضا،ڈاکٹر محمد سمیع،ڈاکٹر عبدالرحمن سمیت دیگر فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں