Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

یونیورسٹیوں کو انفرادی مضامین کی بنیاد پر داخلے دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ

انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیٹی نے قومی سطح کے اہم تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی سطح پر سبجیکٹ گروپس کی درجہ بندی سے متعلق درپیش مسائل پر غور کے لیے اپنے سیکرٹریٹ میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کی، جنہوں نے موجودہ نظام میں طلباء کو پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی روشنی ڈالی، بالخصوص ان طلباء کے مسائل اجاگر کیے جو زیادہ تر سائنسی مضامین مکمل کرنے کے باوجود ہیومینٹیز کے مساوی گروپ میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔

اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک زیادہ لچکدار اور مضمون پر مبنی نظام کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے، جہاں جامعات داخلوں کے لیے سخت گروپس کے بجائے طلباء کے پاس کیے گئے مخصوص مضامین کو بنیاد بنائیں۔

اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل قومی نصاب کونسل، صوبائی نصابی اداروں اور امتحانی بورڈز کے نمائندوں نے ایس ایس سی سطح پر سبجیکٹ گروپس کے خاتمے کی حمایت کی اور لچک بڑھانے کے لیے مضامین کو غیر بنڈل کرنے کی تجویز دی۔

اس سلسلے میں تجاویز کا مزید تفصیلی جائزہ لینے اور آئندہ اجلاس میں قابلِ عمل سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک قومی مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ ایس ایس سی سطح پر سبجیکٹ گروپس کو ختم کرکے یونیورسٹیوں کو انفرادی مضامین کی بنیاد پر داخلے دینے کی اجازت دی جائے اسی طرح ایس ایس سی کوالیفکیشن گروپس کو مزید لچکدار بنایا جائے تاکہ کالج میں داخلوں کے مواقع کھلے رہیں، جبکہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ مضامین کو یکجا کرنے یا ایس ایس سی سطح پر مہارت پر مبنی وسیع تر تعلیمی راستے متعارف کرانے کے امکانات بھی زیرِ غور لائے گئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ طلبا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور بین الاقوامی بہترین تعلیمی طریقوں کے مطابق اصلاحات لا کر ایک ہموار، جامع اور لچکدار تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے گا اجلاس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے حکام نے آن لائن شرکت کی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button