“ڈیجیٹل ایج میں سیکھنے پر پہلی بین الاقوامی کثیرالثباتی کانفرنس: مستقبل کے لیے جنریشن Z کی تیاری” کانفرنس کا آغاز ہوگیا

ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبۂ ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام “ڈیجیٹل ایج میں سیکھنے پر پہلی بین الاقوامی کثیرالثباتی کانفرنس: مستقبل کے لیے جنریشن Z کی تیاری” کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
ترجمان کے مطابق اس اہم بین الاقوامی علمی کانفرنس کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل تبدیلی کے تناظر میں تعلیم کے شعبے میں ابھرتے ہوئے رجحانات، درپیش چیلنجز اور نئے مواقع کا جامع جائزہ لینا ہے۔
نفرنس کی سرپرستِ اعلیٰ وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان، پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ھیں، جبکہ کانفرنس کی چیف آرگنائزر اور فوکل پرسن، رجسٹرار و چیئرپرسن شعبۂ ایجوکیشن، ڈاکٹر ثمینہ اختر تھیں۔
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں تعلیم کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور جنریشن Z کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے سیکھنے کے طریقۂ کار کو یکسر بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں کہ وہ جدید، مؤثر اور ہم عصر تدریسی حکمتِ عملیوں کو اپنائیںوائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ کثیرالثباتی تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون ہی مستقبل کی تعلیم کو بامقصد اور مؤثر بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر شعبۂ ایجوکیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی سرگرمیوں کے مثبت نتائج مستقبل کی تعلیمی پالیسیوں اور تدریسی عمل میں نمایاں بہتری کا سبب بنیں گے۔
کانفرنس کی چیف آرگنائزر اور فوکل پرسن ڈاکٹر ثمینہ اختر نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل لرننگ، جدید تدریسی ماڈلز، تعلیمی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اکیسویں صدی کی مہارتوں پر سنجیدہ اور بامقصد علمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنریشن Z نہ صرف ڈیجیٹل طور پر باخبر ہے بلکہ اسے تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتوں سے لیس کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر درپیش مسابقتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں سامنا کر سکے
کانفرنس کے پہلے روز معروف ملکی و غیر ملکی ماہرینِ تعلیم اور اسکالرز نے کلیدی اور تکنیکی سیشنز میں شرکت کی، جن میں ڈاکٹر رانا دلشاد، ڈاکٹر بشیر حسین، ڈاکٹر اختر علی، ڈاکٹر امیر ہاشمی، ڈاکٹر جام محمد، ڈاکٹر امبرین خضر، ڈاکٹر یاسر علی، ڈاکٹر غلام اسحاق، ڈاکٹر صائمہ افضل، ڈاکٹر ارشاد حسین، ڈاکٹر شہباز نواز، ڈاکٹر عمر فاروق اور ڈاکٹر نبیہ لقمان شامل تھے۔
مقررین نے ڈیجیٹل دور میں سیکھنے کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح تعلیم، ابلاغ، سماجی رویّوں اور جنریشن Z کی ذہنی و فکری نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل لرننگ کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ چیلنجز، جن میں ڈیجیٹل خلیج، اخلاقی مسائل اور مساوی رسائی شامل ہیں، پر بھی تفصیلی گفتگو کی کانفرنس آج بھی جاری رہے گی ۔


















