Breaking NewsEducationتازہ ترین

انٹرنیشنل ایجوکیشن کانفرنس شروع، تقریب وائس چانسلرز کا کٹھ بن گئی

ویمن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ایجوکیشن کانفرنس شروع ہوگئی ، جس کا عنوان کورونا کے بعد ایجوکیشن کے مسائل ہے ، کانفرنس تین روز جاری رہے گی ، اس کانفرنس کا اہتمام پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور شعبہ ایجوکیشن ویمن یونیورسٹی ملتان کے باہمی تعاون سے کیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی چار یونیورسٹی کے وائس چانسلرز تھے ۔

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کانفرنس کے منتظمین کو ایسی کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے تعلیمی اداروں میں تحقیق کے معیار کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام وائس چانسلرز کی موجودگی پر خوشی ہے ، جو ہمارے اور طلباء کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ۔

کانفرنس سے وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر محمد رمضان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کو اپنی کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے مضمون کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔

اساتذہ سوشل میڈیا ذہنی صحت اور جذباتی پیچیدگیوں کے بارے میں بات کریں، جو دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں ان کی ذہنی صحت اور تندرستی کے بارے میں آگاہی کی ذمہ داری ان پر ہے۔

وائس چانسلر (ایم این ایس UET ملتان) پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کی منزل کے حصول کے لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی میں سیکھنے اور کمانے اور تعین کے اصول پر عمل کریں۔

پرو وائس چانسلر( بلوچستان یونیورسٹی) پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے تحقیقی شعبے میں اپنے تجربات سے آگاہ کیا ، اور پاکستانی اداروں میں تحقیق کے معیار کو بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی درجہ بندی کے مظاہر کو واضح کیا کیونکہ یہ معیاری تحقیق پر منحصر ہے، لہٰذا انہوں نے تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ ہم معیاری تحقیق کو فروغ دے کر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل سکیں۔

کانفرنس سے وائس چانسلر ( اوکاڑہ یونیورسٹی ) پروفیسر ڈاکٹر واجد نے بھی خطاب کیا جبکہ مقررین نے کہا کہ ان لاک میں جس طرح سے معمول کی زندگی کا آغاز ہو گیا ہے، مگر کوووڈ-19 وباء کی سطح اور شدت واضح طور پر صحت عامہ کے لیے ایک ایسا خطرہ بن گئی ہے کہ بعض حقوق پر پابندیاں جائز ہو جاتی ہیں اب تعلیمی ادارےکھل گئے ہیں اور اساتذہ ، والدین اور تعلیمی ماہرین پہلے ہی بچوں کی تعلیم میں بہت بڑا خلا محسوس کر رہے ہیں۔

مشاہدے میں آیا کہ زیادہ تر بچے اپنی مادری زبان میں واپس چلے گئے ہیں۔

اس دوران سب سے زیادہ نقصان چھوٹے بچوں کا ہوا طلباء کتاب روانی سے پڑھنے سے قاصر ہیں۔ وہ حروف تہجی ، اعداد ، بنیادی ریاضی کو یاد کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جیسے اضافہ اور گھٹاؤ اور ضرب میں انھیں مشکلات پیش آرہی ہیں اور وہ اپنے دوستوں سے آسانی سے بات نہیں کر سکتے۔

بچوں نے سادہ جملے لکھنے کا اعتماد بھی کھو دیا ہےدیہی علاقوں میں یہ مسئلہ بہت عام ہے کیونکہ ان بچوں کے لیے آن لائن کلاسز اور سماجی ملاقاتیں دستیاب نہیں تھیں، کالجز اور یونیورسٹیاں بھی اس کے اثرات سے نہیں بچ سکیں ،طلبا اب کلاس رومز میں لیکچرر لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے نا ہی وہ فزیکلی امتحان دینے کےلئے تیار ہوتے ہیں، 30 فیصد نصاب کی کٹوتی کی گئی ہے بڑا مسئلہ صرف تعلیم کی ترسیل کا نہیں بلکہ جو تعلیمی عمل ہوا ہے اس کو امتحانات کے ذریعے چانچنے کا ہے، اور اس کے مطابق طلبا کو کامیاب کرنے کا ہے۔

اطمینان بخش تعلیمی عمل ہوا ہی نہیں تو اس کی جانچ کس طرح کی جائے نصاب میں کمی کے ساتھ ساتھ پرچہ سوالات میں بھی کچھ آسانیاں پید کی گئیں ۔

انٹرنل مارکس میں بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا گیا جن حالات سے آج دنیا گزر رہی ہے ان حالات میں طلبہ کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اساتذہ اور والدین کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

کانفرنس سے ڈاکٹر سارہ ،ڈاکٹر مہر سعید اختر، ڈاکٹر اسلم ، ڈاکٹر عفیفہ خانم، ڈاکٹر آسیہ اور ڈاکٹر نسرین اختر نے بھی خطاب کیا ۔

بعدازں اساتذہ کے عالمی دن کے حوالے سے کیک کاٹنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

مقررین نے معاشرے میں اساتذہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اساتذہ کا احترام کرنے والے ہی کامیاب اور دنیا پر راج کر سکتے ہیں۔

آخر میں مہمانوں میں سونیئر تقسیم کئے گئے۔

اس کانفرنس کی فوکل پرسن ڈاکٹر فریحہ سہیل، ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر حنا منیر تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں