Breaking NewsNationalتازہ ترین

جوائنٹ سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کا سی سی آر آئی ملتان کا دورہ

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی ملک میں جاری زراعت کے مختلف منصوبوں کی تکمیل اورزرعی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بات جوائنٹ سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی محمد بشیر کھیتران نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں اپنے دورہ کے موقع پر کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی ملک میں کاٹن کی ترقی وفروغ کے لئے ریسرچ اداروں کی ہر قسم کی معاونت فراہم کرے گی ۔

مزید برآں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشنز سے کاٹن سیس کی ریکوری بہتر بنانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات اٹھانے جا رہی ہے۔

انہوں نے ادارہ کے مختلف شعبہ جات میں کپاس کی فصل پر ہونے والے تحقیقاتی کام کا بڑی دلچسپی سے جائزہ لیا۔

اس موقع پر ادارہ کے ڈائریکٹر،ڈاکٹر زاہد محمود نے کپاس کی تحقیق اور اس کی پیداوار سے متعلق انہیں تفصیلی بریفنگ دی ۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے ادارہ میں جاری بی سی آئی اور گلابی سنڈی کے انسداد بارے مختلف پراجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

ڈائریکٹر سی سی آر آئی نے ادارہ میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے تعاون سے مذکورہ پراجیکٹس کی اب تک کی کارکردگی اور مطلوبہ نتائج بارے جوائنٹ سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

انہوں نے ادارے کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب سیڈ کونسل نے رواں برس ادارہ ہذا کی 06 اقسام کپاس کی عام کاشت کے لئے منظوری دی ہے، اور ادارہ ہذا نے اب تک کل معیاری پیداوار اور اعلیٰ کوالٹی کی چونتیس(34) اقسام عام کاشت کے لئے دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان نہ صرف نئی اقسام دریافت کرتے ہیں بلکہ کاشت کاروں کے پیداواری مسائل کا حل بھی ڈھونڈ کر ان تک پہنچاتے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے جوائنٹ سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ادارہ میں کاٹن لیف کرل وائرس کی بیماری پر ہونے والی تحقیق ، گلابی سنڈی کے غیر موسمی انسداد کے لئے تیار کی گئی مشین پنک بول ورم مینیجر، کم خرچ اور ماحول دوست لیف ٹیکنالوجی کے علاوہ کپاس کی فائبر کوالٹی کے حوالہ سے ادارہ ہذا کی تحقیقاتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

جوائنٹ سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی محمد بشیر کھیتران نے سی سی آر آئی ملتان کی ملکی سطح پرکپاس کی تحقیق وترقی میں گرانقدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ادارہ ہذا کے زرعی سائنسدانوں کی کارکردگی کو کافی سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کپاس کے ریسرچ اداروں کی بدولت ہی ہم کپاس کی معیاری پیداوار میں اضافہ سے ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت کو ترقی دے سکتے ہیں جس سے نہ صرف کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں