Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

پنجاب ایجوکیشن کریکلم، ٹریننگز اینڈ اسِیسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا) کے قیام میں قانونی مشکل

تین تعلیمی ادارے ختم کرکے ایک نیا ادار پنجاب ایجوکیشن کریکلم، ٹریننگز اینڈ اسِیسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا)  کے قیام میں قانون مسائل آڑے آگئے۔

تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت نے تین تعلیمی ادارے قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ، پنجاب ایگزامینیشن کمیشن، پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ختم کرکے پنجاب ایجوکیشن، کریکلم، ٹریننگ اینڈ اسسیسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا) قائم کی مگر قانونی مسائل کی وجہ سے یہ اتھارٹی فعال نہ ہوسکی۔

اس سلسلے میں جاری مراسلے میں کہاگیاہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ تدریسی، سیکھنے اور تشخیصی درجات کو بہتر بنانے کے لیے تین تنظیمیں یعنی قائد اعظم۔ اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن اور پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کو پنجاب ایجوکیشن کریکلم ٹریننگ اینڈ اسسمنٹ اتھارٹی کی شکل میں ایک ساتھ شامل کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں انتظامی محکمے کی طرف سے ایک سمری شروع کی گئی جس کے تحت محکمہ قانون و پارلیمانی امور نے کہا کہ "پنجاب گورنمنٹ رول آف بزنس 2011 کے قاعدہ 33(1) کے مطابق، انتظامی محکمہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنے کے بعد، اگر کوئی ہے تو، قانون سازی کی تجویز کے مندرجات کا تعین اپنے پالیسی کے تناظر میں کرنے کا پابند ہے۔ قانون اور پارلیمانی امور کے محکمے سے بل کو قانونی شکل دینے کے لیے کہنے سے پہلے اس معاملے میں کابینہ سے اصولی طور پر منظوری حاصل کریں، اس لیے انتظامی محکمے کو اس موضوع پر قانون سازی کی تجویز کے مندرجات کے تعین کے لیے جانا ہوگا۔

علاوہ ازیں متعلقہ قواعد/ پالیسی کی دفعات کے تحت پیکٹا کے ایکٹ کو تیار کرنے کے لیے قانونی مشیروں کی خدمات حاصل کی جائیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button