Breaking NewsNationalتازہ ترین

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی: پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ملتان کاآٹھواں اجلاس

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا ،جس کی صدارت ڈائریکٹر سی سی آر ملتان ڈاکٹر زاہدمحمودنے کی۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے زرعی ماہرین نے بھرپور شرکت کی، اور ملکی سطح پر کپاس کی مجموعی صورتحال، کپاس کی نگہداشت اور خاص کر حالیہ بارشوں کے بعد فصل پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کے لئے 15جولائی تک کی سفارشات پیش کی گئیں۔

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ کپاس کے کاشتکار متوقع بارش کی صورت میں کھیت سے بارش کے پانی کے نکاس کا فوری بندوبست کر لیں۔15جولائی تک بارشوں کے دو اسپیل متوقع ہیں۔

کاشتکار احتیاطی تدابیر کے لئے کھیت کے ایک کونے میں4فٹ کا گہرا گھڑا کھود لیں تاکہ بارش کا پانی اس میں جمع ہو سکے اور اس کے نکاس میں آسانی ہو۔

اجلاس میں کپاس کی فصل کے مرجھاؤ اور جھلساؤ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کاشتکار متوقع بارشوں سے پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر فصل کو مرجھاؤ اور جھلساؤ سے بچانے کے لئے کاپر آکسی کلورائیڈ+کسوگامائی سین250) گرام (بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کریں، اور اس کے ساتھ تھائیو فینیٹ میتھائل400گرام یافوسٹائل ایلیو مونیم500گرام یا میٹالگزل+مینکوزپ300)گرام( فی ایکڑ آبپاشی کے ساتھ فلڈ کریں۔

سفید مکھی کے شدید حملہ سے فصل کالا پن کا شکار ہوتو کاشتکارسلفر(80فیصد خالص( 300گرام بحساب 100لٹر پانی کے ساتھ سپرے کریں،بارشوں کے بعد کاشتکار کھیت سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے وتر آنے پر گوڈی کریں، اور افرادی قوت کی مدد سے پودوں کی درمیان موجود جڑی بوٹیوں کی تلفی ممکن بنائیں۔

کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی بیج بننے سے پہلے یقینی بنائیں ۔کاشتکار فصل کاقد 3 فٹ سے زائد کی صورت میں ٹریکٹر کے ذریعے گوڈی سے اجتناب کریں یا ایسے آلات استعمال کریں جس کے استعمال سے پودے ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جن کی اگیتی فصل میںاوسطاً10ٹینڈے فی پودا کھل چکے ہوں تو ایسی فصل میں چنائی کر لیں تاکہ اچھی قیمت مل سکے ۔

ایسے کاشتکار جنہوں نے گلائیفوسیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام( ٹرپل جین) کاشت کی ہیں تو وہ کھڑی فصل میںگلائیفوسیٹ بحساب ایک لٹر 100لٹر پانی کی مقدار میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں جبکہ روائتی اقسام کاشت کرنے والے کاشتکار گلائیفوسیٹ سپرے کرتے وقت شیلڈ کا استعمال لازمی کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہحالیہ بارشوں کے بعدکھیت میں بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے پودے پیلے پن کا شکار ہیں، جس کو دور کرنے کے لئےکاشتکار 2 کلوگرام یوریا اور200گرام زنک سلفیٹ بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ سپرے کریں۔

پھل کے کیرے کو کم کرنے، ٹینڈوں کی تعداد اور وزن میں اضافہ کے لئے کاشتکار150گرام بورک ایسڈ/بوریکس،200گرام زنک سلفیٹ،300گرام کیلشیم سلفیٹ اور2کلوگرام یوریا علیحدہ علیحدہ پانی میں حل کرکے100لٹر فی ایکڑ سپرے کریں اور مذکورہ سپرے سیزن میں 2-3بار کم از کم15دن کے وقفہ سے دہرائیں۔

کاشتکار رکی ہوئی فصل کو چلانے کے لئے15تا20کلوگرام بوریکس بذریعہ آبپاشی دیں۔

کاشتکار پودوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کے لئے پوٹاش کا استعمال لازمی کریں۔

پوٹاش کی سفارش کردہ مقدار ایک بوری ایس او پی یا ایک بوری ایم او پی ڈالیں یا کم از کم ہر ایک10کلوگرام بذریعہ آبپاشی دیں۔ایسی فصل جو10تا15ٹینڈے فی پودا بنا چکی ہے اس میں آدھی تا ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا پوٹاشیم کلورائیڈ ڈالیں تاکہ پودے بیماریوں اور موسم کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

ایسی زمینیں جہاں زنک اور بوران کی کمی ہو وہاں کاشتکار3تا6کلوگرام زنک سلفیٹ اور کم از کم2کلوگرام بوران بذریعہ آبپاشی دیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہکاشتکار روگنگ کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیں یعنی غیر متعلقہ قسم کے پودوں کو کھیت سے باہر نکال دیں ،اور اس فصل کو کسی بھی قسم کی زرعی مداخل کی کمی نہ آنے دیں۔ کاشتکار پہلی چنائی والی کپاس کا بیج ہرگز نہ بنائیں۔

مزید برآں بیج کے لئے لگائی گئی فصل اگر کیڑے مکوڑوں خاص کر ڈسکی،ریڈ بگ یا گلابی سنڈی سے متاثرہ ہو تو ایسی پھٹی کا بیج ہرگز نہ بنایا جائے۔

اجلاس میں سفید مکھی سے بچاؤ کی صورت میں پیلے لیس دار چپکنے والے پھندے بحساب10عدد فی ایکڑ کے استعمال کی سفارشات پیش کی گئیں۔ سفید مکھی کے شدید حملہ کی صورت میں کاشتکار سپائروٹیٹرامیٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر یا فلونیکا مڈ80گرام یا بیپروفیزن600گرام یا اسیٹا میپرڈ125گرامپانی کی100لٹر مقدار میں ملا کرفی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جہاں ڈوڈی بننے کا عمل شروع ہوچکا ہے وہاں گلابی سنڈی کا حملہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لئے1جنسی پھندہ فی پانچ ایکڑلگائیں جبکہ مینجمنٹ کے لئے8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائے جائیں۔ اس کے علاوہ کاشتکار گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے پی بی روپس کا استعمال بھی لازمی کریں۔ جب فصل پر ڈوڈیاں لگنا شروع ہوں تو کاشتکار120پی بی روپس فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں۔جیسڈ/چست تیلے کے معاشی نقصان کی حد پر کاشتکار ڈائی نوٹیفرون100گرام یافلونیکا مڈ60گرام بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔

کاشتکار تھرپس کے معاشی نقصان کی حد تک پہنچنے پر کلورفینا پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام60ملی لٹر بحساب100 لٹرپانی فی ایکڑ اسپرے کریں۔

اگر فصل پردیمک کا شدیدحملہ ہوجائے تو کاشتکار کلوروپائیریفاس 1000ملی لٹر یا فیپرونل480ملی لٹر کو ایک ہی نکے سے دوران آب پاشی فلڈ کریں ۔

اجلاس میں سی سی آر آئی ملتان کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر محمد ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد ، ، مس صباحت، ساجد محمود، ڈاکٹر رابعہ سعید، جنید احمد خان ڈاہا سائنٹفک آفیسر اور حبیب الرحمن ٹیکنیکل مینیجر سائبان گروپ نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں