Breaking NewsNationalتازہ ترین

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا : شہباز شریف

قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے عالمی برادری سے بھرپور امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا ہے، اس صورتحال سے نکلنے کیلئے بڑی امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے پاکستان کو بھرپور تعاون درکار ہے۔

جمعہ کو نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر (این ایف آر سی سی) کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس ٹاک کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ اپنی خوشگوار یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کیلئے اجنبی نہیں ہیں، پاکستان کے ساتھ ان کا گہرا رشتہ ہے اور میرے دل کے قریب ہے۔

آج سے 17 سال قبل جب وہ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے سربراہ تھے تو انہوں نے افغان مہاجرین کیلئے یہاں کام شروع کیا، انہوں نے کہا کہ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستانی قوم نے کئی عشروں تک افغان مہاجرین کیلئے نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کیا،پاکستان نے کم وسائل کے باوجود 60 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی اور فراخدلی سے ان کی مدد کی، پاکستانی عوام بڑے فراخدل اور مہمان نواز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے بعد پاکستان کا دورہ کیا، دہشت گردی کے باعث پاکستان کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے عوام نے بہت مشکلات جھیلی ہیں،جب سوات سے لاکھوں لوگ دہشت گردی کی وجہ سے بے گھر ہوئے، تب میں یہاں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت بہت بڑے قدرتی المیے کا سامنا ہے، انہوں نے اس قدر بڑے حجم کی قدرتی آفت نہیں دیکھی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے لاکھوں پاکستانی متاثر ہوئے ہیں، لوگ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں، ان کے گھر، روزگار، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے بڑے وسائل درکار ہوں گے، اس سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، یہ یکجہتی کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف کا معاملہ ہے، سیلاب متاثرین کی ریلیف امداد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاشی استحکام سمیت ان بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے قرضوں کی شکل میں بھی مدد کی ضرورت ہے۔

انتونیو گوتیرس جو اس سے قبل پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 160 ملین ڈالر کی عالمی اپیل بھی کر چکے ہیں، نے کہا کہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جن کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، حالیہ سیلاب اور قدرتی آفت کے بعداین ایف آرسی سی ، حکومتی اداروں اور این جی اوز نے بھرپورانداز میں متاثرین کی مدد کیلئے کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں بہت کم حصہ ہے لیکن وہ اس کے منفی اثرات سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے، کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، موسمیاتی تبدیلیوں سے جس قدر پاکستان متاثر ہوا ہے دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں عالمی برادری ان کی معترف ہے، پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت ہے، متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے مرحلے کے بعد بحالی اور تعمیرنو کے مرحلے میں عالمی برادری بھرپور تعاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سیلاب کے باعث درپیش مشکل صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی حکومت اور عوام کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کے دور میں رہ رہے ہیں، آج اس صورتحال کا سامنا پاکستان کو ہے تو کل کوئی اور ملک بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنا کردار ادا کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو اس مشکل صورتحال میں پاکستان کی مدد کیلئے متحرک کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے ایسے وقت جب پاکستان تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب اور قدرتی آفت کا شکار ہے، اس موقع پر پاکستان کا دورہ ان کی طرف سے پاکستان کے عوام کیلئے خیرسگالی کا پیغام ہے، وہ اہل پاکستان کو یہ بتانے آئے ہیں کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اپنے دائرہ کار میں دستیاب وسائل کو استعمال میں لائیں گے اور دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کی ہرممکن مدد کریں گے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے جو کچھ کر سکیں گے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بطور سیکرٹری جنرل، وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات اور اب این ایف آر سی سی میں ان کی گفتگو سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے دل کا اتھاہ گہرائیوں سے بات کی ہے، ان کی باتوں سے ایسا لگا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے پاکستانی کی طرح بات کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور ملکی سطح پر ملنے والی امداد کی ایک ایک پائی کی شفافیت کے ساتھ استعمال کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

قبل ازیں نیشنل فلڈر ریسپانس کوآرڈنیشن سینٹر میں وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے دورہ کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات و ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال اور نیشنل کوآرڈینیٹر این ایف آر سی سی میجر جنرل ظفر اقبال نے ملک میں سیلاب کی صورتحال، نقصانات، ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں