Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان اور برٹش کونسل کے تعاون سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد

ترجمان کے مطابق ویمن یونیورسٹی ملتان اور برٹش کونسل کے پراجیکٹ صنفی مساوات کے پراجیکٹ ’’پارٹنر شپ ان ایکویلیٹی‘‘کے تحت ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ’’ پاکستانی اور یوکے کی خواتین روبوٹیکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں‘‘ تھا۔

اس کا اہتمام ویمن یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی ، کوالٹی انہاسمنٹ سیل ،اور روبوٹکس سنٹر، کارڈف میٹرو پولیٹن یونیورسٹی نے کیا تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی یونیورسٹی میں اس اہم ورکشاپ کی میزبانی کرنے پر فخر ہے، یہ تعلیم اور جدت کے ذریعے خواتین کو با اختیار بنانے کے ہمارے مشن سے بالکل ہم آہنگ ہے۔ یہ تعاون برٹش کونسل کے ساتھ ہماری طالبات میں بے مثال مواقع فراہم کرنے کے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔

شعبہ ریاضی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر قمر رباب نے کہا کہ ہمارے نصاب میں روبوٹکس اور اے آئی کو شامل کرنا ہمارے طلباء کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے ضروری ہے، یہ ورکشاپ نہ صرف ان کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے بلکہ حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔

پروجیکٹ کی فوکل پرسن ڈاکٹر ظل شمس نے بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ عالمی صنفی مساوات کی طرف ایک اہم قدم ہے، صنفی مساوات کا یہ پراجیکٹ کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ مقامات کے طور پر اعلیٰ اور مزید تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام روزگاری تک رسائی کو فعال کرنا مزید اور اعلیٰ تعلیم سے فارغ التحصیل خواتین کے لیے روزگار کے راستے کو مضبوط بنانا ہےش ایسے وقت میں جب دنیا روبوٹ کے استعمال میں خود کفیل ہورہی ہے اور آرٹیفشل انٹیلیجنس نے انقلاب برپا کیا ہوا ہے مگر پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے تحت صنفی تفاوت کو ختم کرنے میں تشویش ناک حد تک ناکام ہے، صنفی مساوات کے حوالے سے، اے آئی اور روبوٹکس کی دنیا میں بہت سے چیلنجز ہیں۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق، اے آئی کا استعمال خواتین کے لئے ملازمت تلاش کرنے اور حاصل کرنے کے طریقوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور یہ کام کی جگہ پر نگرانی اور تنظیم نو کو بھی متاثر کر سکتا ہے دنیا میں صنفی مساوات کا مسئلہ ہے، اور اے آئی ہمارے معاشرتی جنسی تعصب کو عکس کرتا ہےاس لئے، صنفی مساوات کو فروغ دینا اور جنسی تعصب سے پاک اے آئی اور روبوٹک سسٹمز تخلیق کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ مستقبل میں خواتین کو بھرپور شمولیت حاصل ہو سکے۔

اس موقع پر ڈاکٹر شاد خان خٹک یوکے، ڈاکٹر سیا چو سینگ کے سربراہ، سٹیم ہب، یوریکا روبوٹکس سنٹر، کارڈف میٹر کی زیر قیادت انٹر ایکٹو سیشنز پیش کیے گئے۔

ڈاکٹر فرخندہ افضل ایسوسی ایٹ پروفیسر، ایم سی ایس، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، پاکستان عظمیٰ احسان لیکچرار، ایم سی ایس، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بھی  موجود  تھیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button