Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی سکالر کا کامیاب مجلسی دفاع

ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو کی پی ایچ ڈی سکالر مسز کوثر پروین کو کامیاب پبلک ڈیفنس کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کی سفارش کردی گئی۔

ان کا مجلسی دفاع گزشتہ روز کچہری کیمپس میں منعقد ہوا، سکالر مسز کوثر پروین کے مقالے کا عنوان "پاکستانی ادبی رسائل کے افسانہ نمبر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ” تھا، ان کے مقالے کی سپروائزر ڈاکٹر شگفتہ حسین اور ایکسٹرنل سپروائزر ڈاکٹر روبینہ رفیق تھیں۔

سکالر مسز کوثر پروین نے حاضرین کے سوالوں کا جواب اور اپنی ریسرچ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ رسالے قوم کا ایک اہم اثاثہ اور ترجمان ہوتے ہیں، جو بڑے وسیع پیمانے پر علمی و ادبی،سیاسی و سماجی ،مذہبی و تہذیبی ،معاشرتی و ثقافتی اور اخلاقی و اقداری وغیرہ علمی ذخائر کا منبع اپنے اندر سمیٹ کے رکھیں ہوتے ہیں۔

یہ علمی ذخیرہ قوم کے ہر فرد اور ہر طبقے ، خواندہ اور ناخواندہ، چھوٹے اور بڑے ،مرد اور عورت، امیر اور غریب غرض ہر ایک کی بلواسطہ یا بلا واسطہ ،بلا تفریق اور تمیز کے رہنمائی اور ترجمانی کرتا ہے۔

اعتبار سے ادبی جریدے قوم و فرد کے معیار کو بڑھانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں، ہر دور میں شایع ہونے والے ادبی رسائل وجرائد نے صرف قارئین کے ادبی ذوق ہی کی تسکین نہیں کی، بلکہ تحقیق کے طالب علموں کے لیے راستہ ہموار کیا اور تنقید کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

تنقید نگار، ادیب اور تخلیق، دونوں کے قدوقامت کا جائزہ لیتے تھے۔ تخلیقی محاکمے کے ذریعے قارئین کو یہ بتایا کرتے تھے کہ کس تخلیق کی گہرائی کیا ہے، اور اگر کسی کام پر تنقید کرنی ہے، تو اس کی نوعیت کیا ہونی چاہیے اور دوسرے معنوں میں اخلاقیات کیا ہونی چاہییں۔

برصغیر میں دو صدیوں سے رسائل شائع ہورہے ہیں، مگر اکیسویں صدی سے پاکستان میں ادبی جرائد کے تناظر میں ایک نیا عہد شروع ہوتا ہے۔2000 سے 2014 تک متعدد نئے ادبی رسالے شایع ہوئے اور کئی اشاعت کے کچھ عرصے بعد چھپنا بند ہوگئے۔
اس عرصے میں پاکستان کے مختلف شہروں سے شایع ہونے والے چند نمایاں رسائل وجرائد میں کراچی سے دنیازاد، روشنائی، جوش شناسی، زرنگار، اجرا، اسالیب، کولاژ، اجمال، رنگِ ادب، لاہور سے نمودِ حرف، لوح، گجرات سے تناظر، فیصل آباد سے نقاط، ملتان سے پیلھوں، پشاور سے احساس، کوئٹہ سے سنگت، قلم قبیلہ وہ ادبی رسالے ہیں، جو باقاعدگی سے شایع ہوتے رہے ہیں، اور انہیں ادبی دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی۔

یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ادبی رسائل وجرائد کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر چیئرپرسن شعبہ اردو ڈاکٹر عذرا لیاقت نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی کا شعبہ اردو اپنی تخلیقی صلاحتیوں کی وجہ سے اب پاکستان میں جانا جارہا ہے ، یہاں ہونے والی معیاری ریسرچ نے یونیورسٹی کے انفرادیت کو بڑھایا ہے، امید ہے کہ مستقبل قریب میں ریسرچ کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔

شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر عذرا لیاقت نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے مختصر مدت میں اپنا نام بنایا ہے، ہم ریکارڈ پی ایچ ڈی کروارہے ہیں، ریسرچ کا معیار عالمی سطح کا ہے جو سراہا جارہا ہے۔

اس موقع پر اساتذہ اور طالبات بھی موجود تھیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button