نجی شعبے کے حوالے کئے گئے سکولز بند ہونے لگے، حکومت نے دوبارہ تحویل میں لینے کا فیصلہ کرلیا

حکومت پنجاب کی ہدایت پر سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے دو فیز مکمل ہوگئے ہیں، تیسرے کےلئے تیاری جاری ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نجی شعبے کے حوالے کئے گئے سکول اس وقت بدتر حالت میں تبدیل ہورہے ہیں اور بند ہونے لگے ہیں۔ ایسے سکولوں کی سب سے زیادہ تعداد ڈیرہ غازی خان میں دیکھنے میں جہاں 59 سکول بند ہوگئے۔
اس سلسلے میں سی ای اوی ایجوکیشن کی طرف سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں محکمہ سکول ایجوکیشن کی پالیسی کے تحت متعدد سرکاری اسکولوں کو مقامی لائسنس یافتہ افراد کے ذریعے آؤٹ سورس کیا گیا تھا، تاہم افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ان میں سے 59 اسکول تاحال غیر فعال پڑے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں طلباء و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
فیلڈ رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں لائسنس ہولڈرز نے ذاتی مسائل کی وجہ سے اسکولوں کا انتظام سنبھالنے سے انکار کر دیا جبکہ بعض مقامات پر مقامی تنازعات اور قانونی رکاوٹوں نے تعلیمی عمل کو مکمل طور پر مفلوج کر رکھا ہے۔ نتیجتاً متاثرہ اسکولوں میں پڑھنے والے بچے تعلیمی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں اور ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر بچوں کے بہترین مفاد اور تعلیمی عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ان 59 اسکولوں کو مستقل بنیادوں پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈیرہ غازی خان کے زیر انتظام لے لیا جائے، سکولوں کو دوبارہ سرکاری انتظام کے تحت چلانے سے نہ صرف تدریسی عمل بحال ہو گا بلکہ بہتر نگرانی اور انتظامی بہتری کے ذریعے معیاری تعلیم کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔
تعلیمی حلقوں نے ا فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس اہم مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے بچوں کا ضائع ہونے والا تعلیمی وقت واپس دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔




















