Breaking NewsNationalتازہ ترین

یہ حکومت نہیں چل پائے گی: شاہ محمود

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان تحریک انصاف کے پشاور میں گزشتہ روز منعقدہ جلسے کے حوالے اپنے ایک بیان میں کہا ہے میں گذشتہ 36 سال سے عملی سیاست میں ہوں۔

میں نے اس عرصے میں بہت سے کامیاب جلسے، عوام کی کثیر تعداد کی شرکت، اور ولولہ دیکھا ہے۔

کل رات کو جس انداز، میں عوام الناس نے پشاور کے جلسے میں شرکت کی اور جو جذبہ دکھائی دیا وہ یقیناً غیر معمولی نوعیت کا تھا۔کل پشاور میں ہونیوالے جلسے کی منفرد بات یہ تھی کہ ماہ رمضان میں پی ٹی آئی ورکرز کے علاوہ سول سوسائٹی اور عوام الناس لاکھوں کی تعداد میں شریک تھے۔

رات کے بارہ بج چکے تھے لیکن خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھائے ہوئے جلسہ میں شریک تھیں۔اس بات سے قطع نظر کہ بجلی ہے یا نہیں، آواز آ رہی ہے یا نہیں، کوئی شخص اپنی جگہ سے ہٹ نہیں رہا تھا۔لوگ، عمران خان کو سننے کیلئے گھنٹوں ایک ہی جگہ پر بلا حرکت کھڑے رہے۔خواتین کثیر تعداد میں موجود تھیں اور مرد حضرات اپنی بہنوں بیٹیوں کیلئے راستہ بنا رہے تھے۔

اس جلسے میں کسی طرح کی کوئی بد مزگی دیکھنے میں نہیں آئی۔کل رات جلسے میں لوگوں کا ولولہ اور جذبہ اس قدر والہانہ تھا کہ ہمیں پنڈال سے اسٹیج تک پہنچنے میں 45 منٹ لگے۔ کل کے کامیاب جلسے نے ثابت کیا کہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور میں پاکستانیوں بالخصوص پختونوں نے اس حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔

میری سیاسی بصیرت 16 تاریخ کو سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں ہونیوالے جلسے میں یہی صورت حال دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہااس وقت دو بیانیے عوام کے سامنے ہیں۔ایک ہمارا بیانیہ ہے جو ہم عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور ایک بیانیہ موجودہ حکومت کا ہے۔فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس بیانیے کو تسلیم کرتی ہے اور پذیرائی دیتی ہے۔اس کو جانچنے کا صرف ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ ہے، انتخابات۔میری دیانتدارانہ رائے میں یہ حکومت نہیں چل پائے گی۔

سوشل میڈیا پر پچھلے پانچ روز سے ”ایمپورٹڈ حکومت نامنظور” ٹاپ ٹرینڈنگ میں ہے۔انہوں نے کہااس وقت پیپلزپارٹی حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے۔وہ کہہ رہی ہے کہ ہمیں پنجاب میں اتنی سیٹیں دو ورنہ ہم وفاق میں وزارتیں قبول نہیں کریں گے۔

میں سوال کرتا ہوں آپ حکومت بنا رہے ہیں یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہے ہیں؟ابھی فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ بلاول وزیر خارجہ بنے گا یا نہیں۔ان کا دل چاہ رہا ہے وزارتیں لیں لیکن عوام کا خوف بھی آ رہا ہے۔

وہ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ فیصلہ ”سی اے سی ”کریگی۔کون نہیں جانتا کہ یہ فیصلے سی اے سی نہیں کرتی۔دراصل ان کے درمیان ایک کنفیوژن دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہا ایم کیوایم بھی کنفیوژن کا شکار ہے۔انہوں نے جو فیصلہ کیا ایم کیو ایم کا ووٹر اسے ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔وہ کہہ رہا ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ہم تمام ناانصافیوں کا ذمہ دار سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ٹھہراتے آ رہے ہیں۔آج ہم ان کی سیاسی گود میں کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ایم کیو ایم کو ایک طرف حکومت میں شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے عہدوں کی پیشکش ہو رہی ہے۔دوسری جانب انہیں اپنے ورکرز کے ردعمل کا سامنا ہے جو بالکل حکومت میں شمولیت کے حق میں نہیں ہیں۔ہمیں کہا جاتا تھا کہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ جعلی ہے۔16 تاریخ کو کراچی میں منعقدہ عوامی جلسے میں حقیقت واضح ہو جائے گی،کہ کس کا مینڈیٹ جعلی ہے اور کس کا اصلی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ پچھلے تین سال سے مہنگائی کی بنیاد پر ہماری حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے تھے۔ہم کہہ رہے تھے کہ مہنگائی کے بہت سے بیرونی اور اندرونی عوامل ہیں۔انہیں حکومت میں آئے تین دن ہو گئے۔

گھی کی قیمت دس روپے فی کلو بڑھ گئی۔دس روپے اچانک چینی کی قیمت بڑھ گئی۔آنہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا اور اب مفتاح اسماعیل صاحب کہہ رہے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔یہ تو ان کے ربط کا عالم ہے۔یہ عوام کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں