امتحانات سر پر آگئے، تمام تعلیمی بورڈز چیئرمینوں سے محروم

پنجاب بھر میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کے آغاز میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں مگر صوبے کے کسی بھی تعلیمی بورڈ میں تاحال مستقل چیئرمین تعینات نہیں کیا جا سکا، جس پر تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے دو ماہ قبل چیئرمین اور سیکرٹری بورڈز کی آسامیوں پر بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں، تاہم تاحال تقرری کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین اور سیکرٹری کے عہدوں کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی سکروٹنی مکمل کر لی گئی ہے لیکن اب تک انٹرویوز کا مرحلہ شروع نہیں کیا جا سکا۔
چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر امتحانات کی آسامیوں کے لیے تقریباً 1500 درخواستیں موصول ہوئیں، جو ان اہم انتظامی عہدوں میں دلچسپی کا واضح ثبوت ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کے 9 تعلیمی بورڈز میں 27 مارچ سے میٹرک کے سالانہ امتحانات شروع ہونے جا رہے ہیں۔ ایسے میں تعلیمی ماہرین نے فوری طور پر مستقل چیئرمین تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امتحانی عمل شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق مستقل افسران کی عدم تعیناتی سے امتحانی مراکز کے قیام، عملے کی تعیناتی، نقل کی روک تھام اور نتائج کی تیاری جیسے اہم امور متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ پالیسی فیصلوں اور مجموعی نگرانی کا نظام بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے تقرریوں کا عمل فوری مکمل کیا جائے تاکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے امتحانات بلا رکاوٹ منعقد کیے جا سکیں۔














