Breaking NewsNationalتازہ ترین

سیکرٹری ٹورزم اسد اللہ فیض کا ٹی ڈی سی پی میں من پسند افراد کو نوازنے کا سلسلہ جاری

حال ہی میں Ex-CM پنجاب کے سرپرائز وزٹ میں چینج ہونے ہونے والی مینجمنٹ نےمحکمہ ٹی ڈی سی پی کو گھر کی مرغی دال برابر سمجھ کر منظور نظر افراد کو بھرتیوں سے نوازنے کا کام شروع کر رکھا ہے، جسکی وجہ پنجاب حکومت نے سیاحت کے انتظامی امور کی باگ دوڑ کی کمان ڈبل چارج کے ساتھ ایک ہی بندے کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے۔

دسمبرمیں چارج سنبھالنے والے سیکرٹری ٹورزم اسد اللہ فیض جوکے ایم ڈی بھی ہیں جنہوں نے مکحمہ میں اب تک 20 سے 25 کے قریب افراد کو ڈیلی ویجز اور کنسلٹنٹ کی بنیاد پر بھاری تنخواہ پر بھرتی کر کے اپنے منظور نظر افراد کو نوازا ،جس میں ریٹائرملازم بھی شامل ہے۔

کنسلٹنٹ کی بھرتی میں PPRA Rules کی دھجیاں اڑا دیں گئیں، بغیر اخبار اشتہار کے کنسلٹنٹ بھرتی کیے گے اور کچھ کنسلٹنٹ کے ٹیکس کٹنے کی وجہ سے ان کی تنخواہ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق سیکریٹری/ ایم ڈی ٹی ڈی سی پی نے اپنے ایک دوست عثمان خالد جن کا تعلق لاہور ڈیفنس سے ہےکو نوازنے کےلیےجی ایم کی آسامی ریگولر بنیاد پر بورڈ سے منظور کروالی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مکحمہ کے کسی بندے کی اتنی صلاحیت نہیں کے وہ جی ایم کے طور پر کام کر سکے یا پنجاب حکومت کوئی آفیسر تعینات کر سکے ،جبکہ باقی تین جی ایم محکمہ S&GAD تعینات کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سیکریٹری نے اپنے گھر کے ڈرائیور ساجد اور مکحمہ کی کچھ فی میل کو نوازنے کے لیے نچلے طبقے کی آسامیاں بھی منظور کروائی۔

جبکہ مکحمہ نے 1995 میں گولڈن شیک ہینڈ سکیم کے مطابق حکومت پنجاب اور مکحمہ فنانس پنجاب کو یقین دہانی کرائی تھی کے محکمہ کی ریگولر اسامیوں کے تعداد 200 سے زائد نہیں کی جائے گی۔

نئی آسامیاں منظور ہونے سے مکحمہ کی ریگولر آسامیوں کی تعداد 200 سے تجاوز ہو گئی ہے۔ نئی اور خالی آسامیوں کی بھرتی کا گمنام اشتہار IPL-1381 بھی شائع کیا گیا تھا ،بعد ازاں اس کی تاریخ میں بھی اضافہ کیا گیا تاکہ وہ تمام افراد جنکو بھرتی کر نا ہے شامل ہو سکیں۔

بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیےسیکریٹری نے مربوط حکمت عملی تیار کرتے ہوئے سب سے پہلے جی ایم فنانس زاہد صاحب سے Resignation لے کر جی ایم فنانس کو تبدیل کیا، اور مس انیسہ سکند کی پوسٹنگ کروائی، کیونکہ زاہد صاحب مکحمہ کا مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مکحمہ کے عرصہ دراز سے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگور کرنے ارادہ رکھتے تھے کیونکہ کے کچھ ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین پہلے سے ہی عدالتوں میں ریگولر ہونے کے لیے مکحمہ پر کیس میں موجود ہیں۔

اسکے بعد جی ایم آپریشنز عاصم رضا تبدیل ہوئے تو ان کی جگہ P&D سے جہانگیر احمد اپنےمن پسند بندے کو تعینات کروا لیا ،جیسے ہی گورنمنٹ بدلی تو اسد اللہ فیض صاحب نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے سکروٹنی کمیٹی سے جلد ازجلد انٹرویو کال کرنے کا کہا اور دوسری طرف اپنے ہی دوست عثمان خالد کو جنرل مینجر ایتھم کی پوسٹ کے لیے اکیلے کو شارٹ لسٹ کروالیا اور اسکے ساتھ وہ باقی تمام لوگ جنکو بھرتی سے نوازنا ان کا انٹرویو بھی جمعہ 8 اپریل کو لے لیا، اور باقی تمام انٹرویو ملکی حالات کا بہانہ بنا کر کینسل کر کے نئی تاریخ دینے کے احکامات جاری کیے ۔
اور منظور نظر افراد جن کے انٹرویو ہو چکے تھے ان کے بھرتی کے آرڈر نکلے کے لیے جنرل مینجر ایڈمن پر دباؤ ڈالا ، جبکہ انہوں نے بھرتی میں ٹی ڈی سی پی کے افراد کے انٹرویو لینے کے بعد اکٹھے آرڈر جاری کرنے کا کہا ،جس کی آڑ میں ایم ڈی/ سیکریٹری ٹورزم نے جنرل مینجر ایڈمن کو ٹرانسفر کروا کر جہانگیر احمد جی ایم آپریشنز کو اضافی چارج دے دیا اور انٹرویو ہونے والے افراد کے بھرتی کے آرڈر نکلے کا حکم بھی دیا۔

بھرتی کا عمل بھی ٹی ڈی سی پی کے Rules کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکروٹنی کا عمل سیکریٹری آفس منتقل کر دیاہے تاکہ کس کو علم نا ہو سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے تمام محکموں کی بھرتی پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ 2014 میں Ex – MD نے مکحمہ میں بھرتی کے لئے پابندی میں نرمی کے درخواست کی تو مکحمہ قانون پنجاب کے سیکرٹری نے بھرتی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی سی پی گورنمنٹ کے تمام رولز کو فالو کرنے کی مجاز ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ ٹی ڈی سی پی نے اپنے کچھ ریزوٹ لیز پر دے دیے ہیں اور ان کا سٹاف بھی محکمہ میں پول پر موجود ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں ریگولر افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے کے ان کی ریٹائرمنٹ پر مکحمہ انکے بقایا جات کیسے ممکن بنا سکے گا کیونکہ مکحمہ ٹی ڈی سی پی کا مین انکم سورس مری میں واقع چیئر لفٹ اور کیبل کار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں