Breaking NewsEducationتازہ ترین

"گڈگورننس اور لیڈرشپ” ، ویمن یونیورسٹی میں سیمینار کا اہتمام

دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں سینٹر آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ ویمن یونیورسٹی ملتان کے زیر اہتمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں گڈگورننس اور لیڈرشپ کے حوالے سیمینار کا اہتمام کیاگیا ، جس کی مہمان خصوصی گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صائقہ امتیاز تھیں ، جبکہ میزبانی کے فرائض وی سی ملتان پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے سرانجام دیئے۔

اس تقریب کی نگرانی لیکچرر نوشین عزیز ( ڈائریکٹر سینٹر آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ) نے کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہ ڈاکٹر صائقہ امتیاز نے کہا کہ یونیورسٹی سے میری مراد، اعلیٰ تعلیم کا وہ ادارہ جو اپنے وجود کے جواز سے واقف بھی ہو، اور اس چیز کو ثابت کرنے کی اسے ضرورت بھی نہ ہو۔ یعنی کہ وہ صحیح معنوں میں ”اعلیٰ“ تعلیم کا ادارہ ہو، جہاں تعلیم، تدریس، تحقیق، سوچ، کردار، نظریہ، عمل، غرض کہ سب کچھ اعلیٰ اور ارفع ہو یونیورسٹی کا مقصد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق ہے ۔

اسے لیے اس سے جڑے لوگوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، یہ سکول اور کالج کی طرز پر کام نہیں کرتیں جہاں موجودہ طالب علم کو منتقل کیا جاتا ہے جس کو ٹرانسفر آف نالج کہتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے نئی تحقیق کر کے، نئے علوم کو دریافت کرنا ہوتا ہے، صنعتوں کو موثر ٹیکنالوجی سے مستفید کرنا ہوتا ہے، سماج کے مسائل کا ادراک کرنا اور ان کے قابل عمل حل تلاش کرنا ہوتا ہے، معاشی، معاشرتی، دینی، سائنسی، سماجی، غرض کہ ہر طرح کے علوم کے لیے ماہرین تیار کرنا، اور ان علوم کو صحیح معنوں میں انسانیت کے لئے مفید بنانے کے لئے مددگار نظام بنانا اور اس کو چلانا، یہ سب اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے وجود کا جواز ہے۔

یونیورسٹیز اگر وقت کی رفتار کو نہ سمجھ سکیں، اور اپنے آپ کو موجودہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اگر ہم آہنگ نہ ہوں تو پھر ان کی کارکردگی اور شہرت پر بھی فرق پڑتا ہے، اور وہ اپنے اصل مقصد سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔

بلکہ آج کل کے معاشی مشکلات کے دور میں، یونیورسٹی کا مالی طور پر مستحکم ہونا بھی اس کی اچھی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے ایک ماہرتعلیم کا کسی ادارے یا شعبے کا سربراہ بننا ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے اس کو انتظامی معاملات میں بہت کھٹن فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو ایک بطور استاد وہ نہیں کرسکتا،تاہم ایک لیڈر کی حیثیت سے انکے فیصلوں کی اہمیت ایک عام ایڈمنسٹریٹر سے زیادہ ہوتی ہےاس لئے جو فیصلے کئے جائیں وہ گڈگورننس کے تناظر میں کئے جائیں ۔

وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کہنا تھا کہ ایسے سیمینار فیکلٹی ممبران کےلئے مشعل راہ ہیں، ان کو ایک لیڈر کی حیثیت سے کام کرنے کے لئے نئی آئیڈیاز ملے ہیں جن کواپنے فرائض کی ادائیگی میں استعمال میں لاسکتی ہیں۔

ویمن یونیورسٹی ملتان مستقبل قریب میں بھی ایسے مذاکرے منعقد کرتی رہے گی ۔

اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب ، ڈاکٹر سعدیہ ارشاد اور تمام شعبوں کی چیئرپرسنز بھی موجود تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں