Breaking NewsEducationتازہ ترین

جامعہ زرعیہ : پیسٹ ڈے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے زیر اہتمام پیسٹ ڈے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔س

سیمینارکی صدارت رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کی۔

پیسٹ ڈے منانے کا بنیادی مقصد کھیتوں میں تمام حشرات الارض ضرر رساں نہیں ہوتے کا شعور اجاگر کرنا تھا۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نقصان پہنچانے والے کیڑے ،جڑی بوٹیاں اور وہ تمام جاندار جو کہ انسانوں کے ساتھ وسائل میں شراکت دار ہو کر ‏نقصان کا باعث بنیں، ان کو پیسٹ کہتے ہیں اور پیسٹ ہماری فوڈ سکیورٹی اور انسانی زندگیوں کے لیے بڑا چیلنج ہیں ۔

مثلاً مچھر بہت ساری بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

ہر سال تقریبا ہماری کپاس کی 2.1ملین بیلز کا نقصان ہوتا ہے ۔اسی طرح گندم ،چاول اور مکئی کو خاطرخواہ نقصان ہوتا ہے ۔

جامعہ ان تمام مسائل کا ماحول دوست حل نکالنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔

کوآرڈینیٹر ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید نے کہا کہ پیسٹ میں سب سے اہم حشرات الارض بیماریاں اور جڑی بوٹیاں وغیرہ ہیں۔ہمیں چاہئے کہ تمام نقصان دہ کیڑوں مکوڑوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آئی پی ایم یا مربوط طریقہ انسداد کا استعمال کریں ، اور کیمیائی زھر کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ سب حشرات الارض ،ضرررساں نہیں ہوتے لہذا کھیتوں پر سپرے کرنے سے پہلے پیسٹ سکاوٹنگ کی جائے تاکہ نقصان دہ اثرات کا تعین ہو سکے ۔اور زرعی زہروں کا استعمال بھی سوچ سمجھ کر کیا جائے تاکہ غیر ضرررساں حشرات اور کھیتوں میں موجود دوسرے جاندار محفوظ ہوں۔
یہی اصول جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لیے بھی مدنظر رکھا جائے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرعنصر نعیم اللہ کا کہنا تھا کہ تمام حشرات الارض نقصان دے نہیں ہوتے لہذا ہمیں ہر کیڑے کو دیکھتے ہوئے اسپرے کا تعین کرنا چاہیے بلکہ سکاوٹنگ کرنے کے بعد ہی اس کے انسدادی طریقہ کی طرف جانا چاہیے ۔

سیمینار میں ڈاکٹر اشتیاق احمد ،ڈاکٹر نعیم اقبال،ڈاکٹر نادر نقاش ،ڈاکٹر آصف فاروق ، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ڈاکٹر قمر سعید اور ڈاکٹر معظمہ بتول سمیت دیگر فیکلٹی اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں