Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی میں چھوٹے کاروباری اداروں بارے سیمینار

ویمن یونیورسٹی ملتان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام شعبہ اکنامکس نے کیا تھا ۔

تقریب کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی تھیں، اس موقع پر چیئرپرسن ڈاکٹر حنا علی نے خطاب کرتے ہوئے کہ دنیا بھر میں ہر سال 27 جون کو مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا دن منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پائیدار ترقی اور عالمی معیشت میں ان انٹرپرائز کے تعاون کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔

یہ دن منانے کا مقصد کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون پر زور دینا ہے۔ عالمی سطح پر کووڈ-19کے بعد مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ایک بار پھر مضبوط ہونا شروع ہورہے ہیں، یہ ادارے لچکدار کاروباری افراد عالمی معیشت کو مضبوط بنانے میں ادا کرتے ہیں، اس دوران نجی شعبے میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا، خاص طور پر جن کی قیادت خواتین، نوجوان کررہے تھے، اس لئے ایسے کیسوں کی سٹیڈی ضروری ہے ۔

مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ اب تک ہونے والی ریسرچ کے مطابق عالمی وبا کے دوران مَردوں کی زیر قیادت نصف سے زیادہ اداروں کے مقابلے میں خواتین کی زیر قیادت تقریباً 62 فیصد چھوٹے کاروبار اس عالمی وبائی بحران سے شدید متاثر ہوئے ، اور خواتین کی ملکیت میں 27فیصد کاروبار کے حوالے سے زیادہ امکان ظاہر کیا گیا کہ وہ وبائی مرض کی وجہ سے اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکیں۔

ترقی پذیز ممالک میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے بڑھ کر افعال انجام دیتے ہیں۔

یہ معاشی اور سماجی ترقی کے انجن بھی سمجھے جاتے ہیں ہمارا ملک بھی ایسا ہی ملک ہے جس کی ترقی میں چھوٹے کاروباری ادارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتے ہیں ۔

خواتین دنیا بھر میں رسمی معیشت میں چلنے والے تمام کاروباروں میں سے ایک تہائی کی مالک ہیں یا ان کی قیادت کرتی ہیں، اور مزید لاکھوں ترقی پذیر معیشتوں میں چھوٹے غیر رسمی ادارے چلاتی ہیں اس لئے حکومت کو ان کی مدد کےلئے خصوصی پیکچ کا اعلان کرنا چاہیے ۔

اس موقع پر اساتذہ اور طالبات بھی موجود تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں