جنوبی پنجاب کے کالجز کی مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ
سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن جنوبی پنجاب محمد الطاف بلوچ نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے بہترین خدمات مہیا کی جائیں، کالجز میں اساتذہ کی کاکردگی کو جانچنے اور اس میں بہتری لانے کے لیے کوارڈی نیشن اور مانیٹرنگ نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
سکولوں کی رینکنگ کےلئے مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ ، نئے ایس اوپیز جاری کردئیے گئے
وہ ایجوکیشن سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے دوران ملتان، بہاول پور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے ڈائریکٹرز (کالجز) سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹریز عطاء الحق، طارق محمود، ڈی پی آئی (کالجز) جنوبی پنجاب ڈاکٹر فرید شریف، ڈپٹی سیکرٹریز محمد شاہد ملک اور عظیم قریشی سمیت دیگر افسران اجلاس میں شریک تھے۔
سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن محمد الطاف بلوچ نے کہا کہ ملتان، بہاول پور اور ڈیرہ غازی خان کے ڈویژنل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (کالجز) اپنے انتظامی دفاتر، ایسوسی ایٹ کالجز، ڈگری کالجز اور کامرس کالجز میں خالی اور پُر شدہ اسامیوں کی مکمل معلومات اور طلبہ کی انرولمنٹ کے حوالے سے تفصیلات محکمہ ہائیر ایجوکیشن جنوبی پنجاب کو فراہم کریں، جن کی روشنی میں کالجز میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور سٹاف کی کمی دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے ڈویژنل افسران سے کہا کہ تمام غیر رجسٹرڈ نجی کالجوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرکے روزانہ کی بنیاد پر محکمہ ہائیر ایجوکیشن جنوبی پنجاب میں رپورٹ پیش کی جائے، نیز تمام اضلاع وتحصیل کے غیر رجسٹرڈ نجی کالجوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ زیرالتوا اے سی آرز ، پروموشن اور پنشن کیسز جلد ازجلد مکمل کیے جائیں جبکہ ڈی پی سی کے تعطل شدہ کیسز کو بھی جلد کلیئر کرایا جائے۔
اجلاس میں سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن جنوبی پنجاب کو بھی محکمے کی جاری سکیموں پر بھی بریفنگ دی گئی، اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری نے کہا کہ تمام جاری اسکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے، تعمیراتی کام کا معیار چیک کیا جائے، سوئچ بورڈز، سینیٹری کے سامان کی تنصیب اور دروازوں وغیرہ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔
اجلاس میں مختلف کالجز میں سٹاف کی کمی، ناکافی بجٹ، فرنیچر اور کمپیوٹر لیبز کی کمی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔














