زکریا یونیورسٹی : ٹرالی چوری کرنے والے ملازمین کے خلاف انکوائری مکمل، نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش

زکریا یونیورسٹی ملتان کے ویٹرنری سائنسز فیکلٹی میں چارہ اور ٹریکٹر ٹرالی کی چوری کے معاملے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سات ملازمین کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ (پیڈاایکٹ)، 2006 کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور انہیں ذاتی سماعت کے لیے آج طلب کر لیا گیا ہے۔
جاری نوٹس کے مطابق ملزمان محمد زبیر عاربی (ویٹرنری اسسٹنٹ)، ساجد کالرو (ڈرائیور)، محمد یونس (ٹرالی ڈرائیور)، اللہ دتہ (بیلدار/کیئر ٹیکر)، مظفر عباس (بیلدار/ ریڑھی بان)، ظفر اقبال (سکیورٹی گارڈ) اور محمد اقبال (سویپر/ ریڑھ بان) پر تجرباتی لائیو سٹاک فارم سے چارہ اور ٹریکٹر ٹرالی کے غائب ہونے میں مبینہ ملوث ہونے اور غفلت برتنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے ملزمان کے تحریری جوابات کا جائزہ لیا، تاہم حکام نے ان جوابات کو غیر تسلی بخش، کمزور اور ناقابلِ یقین قرار دیا ہے
نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملازمین اپنے دفاع میں ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جو کہ انتظامیہ کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
کمپیٹنٹ اتھارٹی نے چارج ثابت ہونے کے بعد متعلقہ ملازمین کے خلاف سخت ترین محکمانہ کارروائی یعنی ملازمت سے برطرفی یا برخاستگی کی سفارش بھی کر دی ہے، اس ضمن میں حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ملازمین کو آج 4 دسمبر صبح 9 بجے ڈپٹی رجسٹرار (لیگل) کے سامنے ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا گیا ہے، مقررہ وقت پر پیش نہ ہونے کی صورت میں یکطرفہ فیصلہ سنایا جائے گا اور کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وائس چانسلر نے ڈپٹی رجسٹرار لیگل کو ذاتی شنوائی اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد کیس کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مجرم ثابت ہونے والے ملازمین کے خلاف ان کی تقرری کی نوعیت کے مطابق ضابطہ کار کے تحت کارروائی کی جائے گی، خواہ وہ مستقل یا ڈیلی ویجز پر ہوں۔




















