Breaking NewsNationalتازہ ترین

کپاس کی اچھی مینجمنٹ کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے: ڈاکٹر زاہد محمود

کپاس کی اچھی مینجمنٹ کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔

یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے کپاس کے کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تربیتی پروگرام برائے بہتر کپاس میں ملتان سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زائد کپاس کے کاشتکاروں نے شرکت کی۔

تربیتی پروگرام کا مقصد کاشتکاروں کو کپاس کی فصل کی موجودہ صورتحال کے پیش اقدامات بارے آگاہی فراہم کرنا تھا۔

ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد کپا س کے کاشتکاروں کے لئے کپاس کوکم خرچ اور آسان کاشت بنانے کے علاوہ ماحول دوست بنانا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کپاس کے کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی سے بچاؤ کی حکمت عملی پر کافی زور دیا اور کاشتکاروں کو سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے پیلے رنگدار چپکنے والے پھندے اور گلابی سنڈی سے بچاؤ کے لئے جنسی پھندوں کے استعمال اور افادیت بارے تفصیل سے بتایا۔

تربیتی پروگرام کے کاشتکاروں سے ان کا کہنا تھا کہ وہ جتنا ممکن ہو سکے پہلا سپرے تاخیر سے کریں۔

اس کے علاوہ انہوں نے تربیتی شرکاء کو کم پیداواری لاگت اور پیداوار میں اضافے کے لئے لیف ٹیکنالوجی کا استعمال اور افادیت، ہائی ڈینسٹی تجربات کے متعلق کپاس کے کاشتکاروں کو تفصیل سے آگاہی فراہم کی۔

صوبائی کو آرڈینیٹر پنجاب بی سی آئی پروجیکٹ ڈاکٹر فیاض احمد نے کپاس کے تربیتی کاشتکاروں کو زمین و پانی کے تجزیہ کی اہمیت،کپاس کے لئے متوازن کھاد اور پانی کی مناسب ضروریات بارے تفصیل سے بتایا۔

اس کے علاو ہ تربیتی شرکاءکو عناصرہ صغیرہ وکبیرہ کے جدید طریقہ استعمال بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر محمد نوید افضل ،انچارج شعبہ ایگرانومی نے تربیتی شرکاء کو کپاس کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری، جڑی بوٹیوں کی تلفی، فصل کی چھدرائی،فی ایکڑ کپاس کے پودوں کی تعداد،مناسب آبپاشی کے استعمال کی افادیت بارے تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر رابعہ سعید، سربراہ شعبہ اینٹامالوجی نے تربیتی شرکاء کو کپاس کے کیڑے مکوڑوں کی شناخت، پیسٹ سکاوٹنگ کا طریقہ، اسپرے کرنے کا مناسب وقت اور کیڑے مکوڑوں کو کنٹرول کرنے کی ھکمت عملی بارے آگاہی فراہم کی۔

اختتامی کلمات میں ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا کہ ہمارا مقصد کپاس کے کاشتکاروں کو ایسی اقسام مہیا کرنا ہیں جن کی پیداواری صلاحیت بہتر،ریشہ لمبا اور کن زیادہ ہو اور اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر کپاس کی ایسی اقسام تیار کرنا ہیں جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت میں اچھی پیداوار دے سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں