Breaking NewsNationalتازہ ترین

جنیاتی کپاس کی اقسام موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں: ڈاکٹر زاہد محمود

مخصوص خاصیتوں کی حامل جنیاتی کپاس کی اقسام موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے کپا س کے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کپاس کا سیزن غیر متوقع موسمی حالات کے باعث کپاس کی فصل کے لئے اچھا نہیں رہا، اور پیداوار کم رہی۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ ادارہ ہذا نے کپاس کی کچھ ایسی نئی جنیاتی اقسام تیار کی ہیں، جو بدلتے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے اور بہتر پیداوار کی حامل ہیں۔

ٹرپل جین کپا س کی اقسام کی خصوصیات بارے ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے اوپر گلائیفوسیٹ سپرے کیا جائے تو صرف کپا س باقی بچ جاتی ہے جبکہ کپا س کی تمام جڑی بوٹیاں ختم ہوجاتی ہیں۔

کپاس کی یہ اقسام گلائیفوسیٹ رزسٹینس ہیں۔ ڈاکٹر زاہد محمود نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں کپاس کی فصل کے لئے گلابی سنڈی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے کپا س کی جنیاتی اقسام میں کچھ ایسے جدید جین ٹرانسفر کئے ہیں جس سے کپاس کی فصل کو سنڈیوں کے حملہ سے محفوظ بنایا جا سکے گا اور ہم زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں گے۔

اسی طرح پانی کی کمی کی وجہ سے کپا س کے ریشے کی کوالٹی متاثر ہو رہی ہے لیکن سی سی آر آئی ملتان نے الحمد اللہ کپاس کی ایسی اقسام تیار کی ہیں جو نہ صرف کم پانی کی دستیابی میں بھی کامیاب پیداوار دیتی ہیں بلکہ ریشے کی اچھی کوالٹی بھی رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ کپاس کی نئی جنیاتی اقسام کی بدولت ہم 50 من فی ایکڑ سے زائد پیداوار لے سکتے ہیں ، اور انشاءاللہ آئندہ برس ہم کپاس کے کاشتکاروں کو عام کاشت کے لئے یہ اقسام فراہم کر دی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ان کا مزید کہنا تھا کپاس کاشت کرنے والے کسان بھائی اگر ٹرپل جین اقسام کا مشاہد کرنا چاہیں تو وہ ادارہ ہذا میں آ کر تجرباتی کھیتوں میں لگی ان اقسام کو دیکھ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں