Breaking NewsEducationتازہ ترین

ادبی دنیا کا نامور ستارہ گوپی چند نارنگ نہیں رہے

نامور نقاد اور محقق پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اس دنیا میں نہیں رہے ،ادب کی دنیا کا چمکتا۔ سورج ڈوب گیا۔

گوپی چند نارنگ 11 فروری 1931ء کو ڈکی، زیریں پنجاب میں پیدا ہونے والے پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق اور ادیب مانا جاتا ہے، گو کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ دہلی میں مقیم تھے مگر وہ باقاعدگی سے پاکستان میں اردو ادبی محافل میں شریک ہوتے رہے ،جہاں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اردو کے جلسوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے، اور انہیں سفیر اردو کے طور پر بھی جانا جاتا، جہاں انہیں بھارت میں پدم بھوشن کا خطاب مل چکا ہے، وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ۔

چند ماہ قبل تک وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہیتہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ چونسٹھ کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کتابوں میں پینتالیس اردو میں، بارہ انگریزی میں اور سات ہندی میں لکھی گئی ہیں۔

چند کے نام یہ ہیں،ساختیات،پس ساختیات اور مشرقی شعریاتادب کا بدلتا منظر نامہادبی تنقید اور اسلوبیا تا میر خسرو کا ہندی کلام ، سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ ، اردو افسانہ، روایت اور مسائل ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں ، ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری ترقی پسندی، جدیدیت، مابعد جدیدیت جدیدیت کے بعدولی دکنی، تصوف، انسانیت اور محبت کا شاعرانیس اور دبیربیسویں صدی میں اردو ادبفراق گورکھپوری،اطلاقی تنقیدسجاد ظہیراردو کی نئی بستیاں، اقبال کا فنکشن شعریات کاغذ آتش زدہ تپش نامہء تمناجدید ادبی تھیوریغالب،معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات محسنِ اردو شامل ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں