ویمن یونیورسٹی میں ہڑتال کیوں ہوئی اور تنخواہیں کیوں نہ مل سکیں؟
اقتدار کا نشہ جب سرچڑھ کا بولتا ہے تو ہوش کا دامن ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، سنگھاسن کی پھسلتی ریت حکمرانوں کو ایسے اقدامات پر مجبور کرتی ہے وہ ایڑھیاں رگڑتے ہوئے بھی لوگوں کی گردنیں اتارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، ایسا ہی منظر آج کل ویمن یونیورسٹی ملتان میں دیکھنے میں آرہا ہے۔
2014 میں قائم ہونے والی یونیورسٹی میں یہ پہلا موقع تھا کہ سوموار کی صبح سب لوگ کام کاج چھوڑ احتجاج کی تیاری کررہے تھے اور پہلی بار ان کی ماہانہ تنخواہ کا ملنا مشکل ہو رہا تھا، یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے خلاف قانون اقدامات کرتے ہوئے فیکلٹی ممبران اور عملے کو احتحاج پر مجبور کر دیا۔
گزشتہ روز جس وقت جنا ح ہال میں نظم کے سو سال مکمل ہونے پر شعبہ اردو کے سیمینار میں گرما گرم موضوعات پر نظمیں سنائی جا رہی تھی تو دوسری طرف وومن یونیورسٹی کا ماحول انتہائی سرد اور خاموش تھا۔
اساتذہ نے کلاسیں پڑھانے کے بجائے گراؤنڈ میںآنے کو ترجیح دی، اس طرح عملے نے ایڈمن بلاک چھوڑ کر باسکٹ بال کوٹ میں پناہ لی، ان سب کا ایک ہی موقف تھا کہ قائم مقام وائس چانسلر خلاف قانون اقدامات کرتے ہوئے ان کی انکریمنٹ کو روکنا چاہتی ہیں اور تنخواہوں میں کٹوتی تیار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز وومن یونیورسٹی نے پہلی بار بروقت تنخواہیں جاری نہ ہو سکی، مالی سے لے کر بیلدار تک، کلرک سے لے کر سپرٹینڈنٹس تک، اسسٹنٹ رجسٹرار سے لے کے ایڈیشنل رجسٹرار تک اور لیکچرار سے لے کے پروفیسر تک سب اپنے خالی اکاؤنٹس دیکھتے رہے لیکن وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ آڈٹ پیرا کی اڑ میں تنخواہیں جاری کرنے اور کٹوتی کرنے پر اصرار کرتی رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وومن یونیورسٹی کی قائم مقائم وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ایمرجنسی پاور استعمال کرنے کی اختیار ہی نہیں رکھتی مگر انہوں نے ایک آڈٹ پیرا جو سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ حسنین کے دور کا تھا کی اڑ لیتے ہوئے کٹوتی کرنے کی کوشش کی جبکہ بطور قائم مقام وائس چانسلر وہ روز مرہ کے معاملات کو دیکھ بھال کر سکتی تھی، وہ خود کوالیفیکشن الاؤنس کی بات کرنے کو تیار نہیں جو کہ وہ خود لے رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ الاؤنس ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے دیا گیا تھا۔
اس وقت وومن یونیورسٹی میں 80 سے زائد افراد ایڈوانس انکریمنٹ وصول کر رہے ہیں جبکہ اٹھ افراد ایسے ہیں جنہوں نے عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں ایڈوانس انکریمنٹ دینے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد وائس چانسلر طیش میں آگئیں اور سب کی انکریمنٹ روکنے کا حکم صادر کر دیا، یونیورسٹی کے عملے، افسران اور فیکلٹی ممبران کا یہ کہنا تھا کہ یہ سارے مراعات سنڈیکیٹ سے منظور شدہ ہیں اوراسی کی اجازت سے دی جا رہی ہیں وائس چانسر از خود نوٹس لیتے ہوئے ان انکریمنٹ کو نہیں روک سکتی جبکہ یہ خود قائم مقام وائس چانسلر ہیں جن کے اقتدار کے چند دن باقی رہ گئے ہیں مگر انہوں نے ملازمین پر زندگی تنگ کر دی ہے۔
اپنی عمر میں تبدیلی سے لیکر فنڈز کی خردبرد کے سکینڈل تک، کمیپوٹرخریداری سکینڈل سے لیکر سینڈیکٹ کے منٹس سکینڈل تک میں گھر جانے والی وائس چانسلرڈاکٹر کلثوم پراچہ ایک ہی بات کہتی ہیں ’’ یہ میرے خلاف سازش ہے ،میری کرداری کشی کررہی ہے اس میں حقیقت نہیں ہے‘‘، تاہم وہ کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے سےہمیشہ کتراتی رہیں ہیں ۔




















