Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی کا بڑا کام: سات جرنلز ’’y‘‘ کیٹیگری میں شامل کرلئے گئے

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ویمن یونیورسٹی ملتان کے سات جرنلز کی وائی کیٹگری میں منظوری دے دی۔
ترجمان ویمن یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ویمن یونیورسٹی ملتان نے ایک بڑا اعزاز اپنے نام کیا ہے کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے 2020 میں ریسرچ جرنلز کی منظوری کے لیے ایچ جے آر ایس سسٹم شروع کیا۔ جس کے بعد بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے بہت سے جرائد ایچ آئی آر سسٹم سے ہٹائے گئے جبکہ کوالٹی ریسرچ کی وجہ سے ویمن یونیورسٹی ملتان کے دس جریدوں میں سے سات جرنلز کی منظور دے دی گئی، جبکہ بقیہ تین منظوری کے مراحل میں ہیں۔
جوجرنلز منظور ہوئے ہیں ان میں کیمیائی علوم میں سرحدیں، پاکستان جرنل آف بائیو کیمسٹری اینڈ بائیو ٹیکنالوجی، جرنل آف نانوسکوپ، سماجی علوم اور نقطہ نظر کی تاریخیں، تاریخ کا بارہماسی جرنل، شماریات ، کمپیوٹنگ اور بین الضابطہ تحقیق اوربین الاقوامی جرنل لسانیات اور ثقافت شامل ہیں ۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کاکہنا ہے کہ یہ کامیابی تمام چیف ایڈیٹرز اور ان کی ٹیموں کی محنت کا ثمر ہے۔ ٹیم اور ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم زین کی کاوشیں قابل ستائش ہیں تمام چیف ایڈیٹرز کو ان جرنل کی منظوری اور اچھے معیار کے معیار کو برقرار رکھنے پر مبار ک باد ہے ۔
جبکہ جرنلز کی چیف ایڈیٹرز ڈاکٹر مریم زین ، ڈاکٹر سارہ مصدق ، ڈاکٹر ملکہ رانی ، ڈاکٹر حنا علی ، ڈاکٹر فریحہ سہل ، ڈاکٹر شگفتہ حسین ، ڈاکٹر عصمت آرا ، ڈاکٹر کلثوم پراچہ ، ڈاکٹر فاطمہ علی اور ڈاکٹر عطیہ اقبال نے کا کہنا ہے کہ جرنلز کا معیار بہتر بنانے کےلئے محنت جاری رکھیں گے ۔
ڈاکٹر مریم زین نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی کی خصوصی سرپرستی اور دلچسپی کی بدولت ان جرنلز کی آن لائن اشاعت ممکن ہوئی، ان جرنلز سے وابستہ افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ان جرنلز کو شروع کرنے والی سینئر اساتذہ جن میں چیف ایڈیٹرز ڈاکٹر عصمت ناز ، ڈاکٹر شگفتہ حسین ، ڈاکٹر عصمت آرا شیخ ، پروفیسر قدسیہ خاکوانی ، ڈاکٹر عظمیٰ نواز ، اور پروفیسر محمودہ وائیں شامل ہیں ان کی خدمات کو نہیں بھلایا جاسکتا.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں