Paid ad
Breaking NewsInternationalتازہ ترین

افغانستان میں پاور شیئرنگ سے ہی کام چلایا جاسکتا ہے : پاکستانی سفیر

افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر منصور خان نے کہا ہے کہ طالبان نے واضح کیا تھا کہ وہ طاقت میں آئیں گے تو اتحادی حکومت بنائیں گے، انھوں نے کہا کہ افغانستان میں پاور شیئرنگ کے ساتھ ہی نظام کو چلایا جا سکتا ہے۔
میڈیارپورٹس کےمطابق منصور خان نے کہا افغانستان میں تمام معاملات کو سیاسی مفاہمت ہی سے آگے لے جانا ہوگا، افغان طالبان سیاسی مفاہمت پر عمل نہیں کریں گے، تو شاید امن کے قیام میں پھر رکاوٹیں پیدا ہوں۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا بھارت نے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کی، روس اور چین چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ہو، اب بھارت کے افغانستان میں مفاد ختم ہو گئے ہیں اس لیے وہ پریشان ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو بدامنی ہوگی، افغانستان میں اس موقع پر اتحادی حکومت کا قیام ناگزیر ہے۔منصور خان نے کہا افغانستان میں کچھ ناخوش گوار واقعات ہو رہے ہیں، تاہم عمومی صورت حال بہتر ہے، واقعات اس لیے ہو رہے ہیں کہ لوگوں کو آئندہ نظام کی تشکیل کا پتا نہیں، افغانستان میں ابھی کسی باضابطہ حکومت یا اتھارٹی کی تشکیل نہیں ہوئی، امریکا کا افغانستان سے انخلا بھی واضح طور پر نہیں ہو سکا۔سفیر نے کہا افغانستان کو اب جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ تمام افغان قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے، پاکستانی قیادت کا واضح مؤقف ہے کہ تمام سیاسی قوتیں متحد ہوں، اور ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں آئے، پاکستان چاہتا ہے تمام افغان دھڑے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں، صرف پاکستان ہی نہیں، تمام ممالک کا اتفاق ہے کہ امن کے لیے سیاسی مفاہمت کی جائے۔
انھوں نے بتایا پاکستان نے افغانستان میں تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطے رکھے، اسلام آباد آئے سیاسی وفد سے بھی پاکستان کے رابطے رہے، احمد شاہ مسعود کے صاحب زادے سے بھی پاکستان کے رابطے رہے ہیں۔
سفیر کے مطابق پاکستانی سفارت خانے نے 4 ہزار ویزے جاری کیے ہیں، 600 ویزے افغانستان میں کام کرنے والے صحافیوں کو دیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے افغان شہریوں کے لیے ویزا پالیسی میں گزشتہ سال تبدیلی کی تھی، اب ویزے کے لیے لوگ آ رہے ہیں لیکن بہت زیادہ تعداد میں نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button