Breaking NewsEducationتازہ ترین

پرنسپل کا ناروا رویہ : خواتین اساتذہ کا احتجاج

گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول چاہ بوہڑ والا،ملتان کی پرنسپل خالدہ شاہین کے توہین آمیز اور نازیبا رویہ کے خلاف ٹیچر سٹاف طاہرجبیں، میمونہ احمد، عروبہ طارق، طاہرہ ملک، ارم طیب، زینب سجاد، روبینہ ناز، انیلا جبیں، خورشیدہ، عمارہ، ریحانہ،بنت زہرا، ساجدہ، نائلہ جبیں، کوثر پروین، روبینہ خاتون، فردوس اسلم، سعیدہ فاطمہ، آمنہ گل،رخسانہ پروین، ریحانہ ہاشمی، عرشہ بشارت، نجمہ،زورینہ ظفر،آمنہ راؤ، روبینہ شیخ، راحیلہ، ثناء، شبانہ اسلم، ارم صدیقی، رضیہ سلطانہ، ناہید حسین، سمیرا عامر، ربیعہ قمر،شائستہ، تسنیم اختر، عائشہ افضل،فرزانہ، طاہرہ، شمیم، رضیہ، آصفہ نے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول چاہ بوہڑ والاکے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ، جس میں انہوں نے پلے کاردز اٹھا رکھے تھے۔

ٹیچر سٹاف نے پرنسپل خالدہ شاہین کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ پرنسپل خالدہ شاہین کے توہین آمیز اور نازیبا رویہ سے تنگ آچکے ہیں۔

یہ ہر وقت ہم ٹیچر ز کوپیڈا ایکٹ اور اے سی آر کو خراب کرنے کی دھمکی دیتی رہتی ہیں، بلکہ پرموشن قریب آتے ہی ٹیچرز کی اے سی آر خراب کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے ٹیچرز کی پرموشن روک جاتی ہے۔

جب بھی کوئی ٹیچر پرنسپل خالدہ شاہین کے خلاف آواز بلند کرتی ہے ، تو اسکے خلاف انکوائری شروع کر وا دیتی ہیں اور ٹیچرز کو مختلف الزامات میں ملوث کروادیتی ہیں , جب دل چاہے کسی ٹیچر کو چھٹی کے بعد گھر جانے دیں یا نہ جانے دیں۔

سکول میں ڈسپلن نہیں ہے کلاس چہارم سے گھر کے کام کرواتی ہیں۔

ٹیچر سٹاف حاضری رجسٹر پرنسپل آفس میں موجود ہوتا ہے اور آفس کی چابی پرنسپل کے پاس ہوتی ہے جس کی وجہ سے ٹیچرز آف کے باہر کھڑی رہتی ہیں ،کیونکہ پرنسپل کئی بار خود لیٹ آتی ہیں۔

اور اگر کوئی ٹیچرحاضرلگائے بغیر انکے آنے سے پہلے کلاس میں چلی جائے تو اسے بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دھمکی دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ تمام اعلی افیسران میرے ہاتھ میں ہیں میں جب چاہے تم لوگوں کے خلاف کوئی بھی انکوائری اور رپوٹ بنواسکتی ہوں۔

غرور اور تکبر کی تمام علامتیں پرنسپل میں موجود ہیں۔یہ خود کے سامنے کسی ٹیچر کو کچھ نہیں سمجھتی ہیں۔

گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول چاہ بوہڑ والاکی ٹیچر سٹاف نے اعلی حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پرنسپل خالدہ شاہین کا فورا ٹرانسفرکیا جائے۔

ورنہ احتجاج کا دائر کار وسیع کرتے ہو ئے محکمہ ایجوکیشن کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا جا ئے گا۔

Show More

Related Articles

3 Comments

  1. صحافت کا اصول ہے کہ ملزم کو بھی اپنی صفائی کا موقع دیا جائے اور اس کا موقف بھی خبر میں شامل کیاجائے۔ آپ نے اس خبر میں سٹاف کے سارے الزامات شائع کیے لیکن محترمہ پرنسپل صاحبہ کا موقف نہیں لیا، جو کہ سراسر اناانصافی اور صحافت کے اصولوں کے منافی ہے۔ شکریہ

    1. یہ مظاہرہ ہے جس میں الزامات لگائے گئے ہیں ،اگر پرنسپل جواب دینا چاہتی ہیں تو ہماری ویب سائٹ حاضر ہے۔
      یہ سٹوری نہیں ایک رپورٹ ہے مظاہرے کی، موقف اس وقت ضروری ہوتا ہے جب ادارہ خود کوئی کوئی سٹوری شائع کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں