افغان خانہ جنگی سے پاکستان میں امن وامان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں : وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکاافغان مسئلے کا فوجی حل نکالنےمیں ناکام رہا، اب افغانستان میں خانہ جنگی کاخدشہ ہے ، جس سے پاکستان کو گمبھیرمسائل کا سامنا ہوگا۔
افغانستان کا واحد اور بہترین حل سیاسی تصفیہ ہے اور ایسی مخلوط حکومت جس میں تمام فریق شامل ہوں اور ظاہر ہے طالبان بھی اس مخلوط حکومت کا حصہ ہوں۔ طالبان خودکوفاتح سمجھ رہےہیں لیکن افغانستان میں بدترین حالات اس وقت ہوسکتے ہیں اگر وہاں خانہ جنگی چِھڑ جائے اور وہ بھی طویل خانہ جنگی، جس سےپاکستان کودہرےمسائل کاسامنا ہوگا۔
امریکا نے دودہائیوں تک فوجی حل نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا، افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ افواج تھی تب حل تلاش کرنا چاہیے تھا ، اب سیاسی مفاہمت ہی افغان مسئلے کا واحد حل ہے۔ پاکستان امن کا شراکت دار ہے اور تنازعہ کا حصہ نہیں بن سکتا، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے بطور سہولت کار کلیدی کردار ادا کیا، افغانستان میں کسی بھی قسم کی بدامنی اور انتشار کا اثر براہ راست پاکستان پر پڑے گا اور اسے متعدد مسائل کا سامنا ہوگا۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور پہلی بار پاکستان پاک افغان سرحد پر بھاری رقم خرچ کرکے باڑ لگا رہا ہے۔ جس کا کام 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔” پاکستان کا نائن الیون اور نیویارک کے واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کیونکہ نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی شہری ملوث نہیں تھا ، لیکن ان واقعات کے بعد ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکار ہورہی ہے، پردے کا حکم صرف خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی ہے، اسلام میں پردے کا مقصد معاشرے میں بگاڑ کو روکنا ہے اور اسلام میں خواتین کی عزت اوراحترام کا درس دیا گیا ہے۔ دنیا گھومنے کے بعد ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں خواتین کازیادہ احترام کیاجاتاہے تاہم مغرب کے مقابلے میں پاکستان میں زیادتی کے کیسز انتہائی کم ہیں۔


















