انتخابی اصلاحات تجاویز کی منظوری، ارکان اسمبلی کو 40 روز میں حلف اٹھانا ہوگا

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز منظور کرلی گئیں، جس کے تحت سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی ممبران کو 40 روز میں حلف اٹھانا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کی سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ نے 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز وفاقی کابینہ سے منظور کرالی گئیں ، اس حوالے سے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی ممبران کو 40 روز میں حلف اٹھانا ہوگا، 40روز میں حلف نہ اٹھانے پر سیٹ خالی تصور ہوگی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 40 روز کے بعد سیٹ پر دوبارہ انتخابات کرائےجائیں گے، آرڈیننس کے اجراء کےلئے بل صدر مملکت کو بھیجا جائےگا، جس کے بعد اسحاق ڈار کی خالی سیٹ کا بھی فیصلہ ہو سکے گا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایک بھی الیکشن ایسا نہیں ہوا جس میں ن لیگ فیئرطریقےسے جیتی ہو، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں انتخابی اصلاحات نہ آئیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بابراعوان اورشبلی فراز نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بریفنگ دی ہے، ای وی ایم اس دھاندلی کو ختم کرتی ہے جو عام انتخابات میں ہوتی ہے، آئی ووٹنگ کے نظام پر نادرا کو ہدایت ہے کہ معاملہ جلد حل کرے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرمحمد اشفاق کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے، 37نئی دوائیاں پاکستان میں بنائی جارہی ہیں، جبکہ 12 دوائیوں کی قیمت میں ردوبدل کیاگیا ہے، اور کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی فیصلوں کی توثیق کردی۔



















