اپوزیشن لیڈر سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے زکریا یونیورسٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین کی حمایت کا اعلان کردیا
یونیورسٹی انتظامیہ کو ہوش کے ناخن لے ، ،علی موسیٰ گیلانی کاٹویٹ

زکریا یونیورسٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین کا کیس اس وقت کا ہے جب سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے ، اس وقت سے لیکر اب تک ڈیلی ویجز کو مستقل نہ کیا جاسکا، اور ملازمین آج بھی ہڑتال پر مجبور ہیں زکریا یونیورسٹی کے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر ایمپلائز یونین کا احتجاج جاری ہے۔
گزشتہ روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی انتظامیہ نے سر جوڑ لئے جبکہ سیاسی رہنما بھی ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لئے سامنے آگئے۔
کریشن ہال میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ملک صفدر حسین ، اور رانا مدثر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی ہر چال کو ناکام بنایا جائے گا، اشتہار کا ڈرامہ نہیں چلنے دیا جائے گا، وائس چانسلر دوسروں کی سوچ کے بجائے قانون کاسہارا لیں اور عید سے قبل ملازمین کو ان کا حق دے دیں۔
علاوہ ازیں یونیورسٹی انتظامیہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں پرووائس چانسلر ڈاکٹرعلیم خان ، رجسٹرار صہیب راشد خان خزانہ دار صفدرخان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈیلی ویجز کے حوالےسے معاملات زیر بحث آئے اور یونین کے مطالبات پر غو ر کیا گیا ، تاہم اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔
دوسری طرف سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ملازمین کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یونین کے رہنماوں کا یقین دلایا کہ ملتان کے ملازمین کو ان کا حق دلایا جائے گا۔
جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہاہے کہ میرے علم میں ہے کہ جامعہ میں ایک ہفتے سے مسلسل ہڑتال جاری ہے اور ملازمین خودسوزی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اور میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ میرے وسیب کی جامعہ زکریا یونیورسٹی میں ایک عرصہ سے ڈیلی ویجز ملازمین کو ابھی تک کیوں ریگولر نہیں کیا جا رہا ، جبکہ سنڈیکیٹ نے بھی ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پھر بھی وائس چانسلر اپنی ضد پر قائم ہیں اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
میری وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ہوش کہ ناخن لیں اور ان غریب بے بس لاچار یومیہ اجرت ملازمین پر رحم کھائیں اور جلد از جلد ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کریں ۔
اگر جامعہ کا ماحول خراب ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ہو گی۔


















