ایلیٹ فورس کے اہلکار کی شہری کی منگیتر سے شادی کرنے کی کوشش،عدالت آڑے آگئی

اپنی مرضی سے دوسری شادی کرنے والی خاتون کو ہراساں کرنے بارے درخواست پر ایس ایچ او تھانہ سیتل ماڑی کو ہراساں کرنے سے باز رہنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔
ملتان پولیس کا باوا آدم ہی نرالا ہے ، جو کام کرنا ہے خلاف قانون کرنا ہے شہری کی منگیتر پر دل کیا آیا کہ زبردستی شادی کی کوشش شروع کردی جس پر شہری نے عدالت کا رخ کرلیا ۔
ایڈیشنل سیشن جج ملتان کی عدالت میں شہری محمد طارق نے درخواست دائر کی کہ اسکی ساس آمنہ بی بی اسکی منگیتر سحرش کنول کی شادی ایلیٹ فورس اہلکار مظہر عباس سے رقم کی لالچ میں کرنا چاہتی کا جس کا اسے کوئی حق نہیں ہے اس لیے پولیس کو جان کا تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے،جس پر عدالت نے تھانہ کپ پولیس کو ہراساں نہ کرنے اور شہری کو تحفظ دینے کا حکم دے دیا ۔
جبکہ دوسرے مقدمے میں عدالت نے اپنی مرضی سے دوسری شادی کرنے والی خاتون کو ہراساں کرنے بارے درخواست پر ایس ایچ او تھانہ سیتل ماڑی کو ہراساں کرنے سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔
ملتان کی ارم بی بی نے درخواست دائر کی تھی کہ اس کو سابق شوہر یوسف سے منشیات فروخت کرنے کی وجہ سے طلاق لی اورپھر ریحان سے شادی کرلی ہے لیکن اب سابق شوہر پولس کے ساتھ ملکر اسے ہراساں کر رہا ہےجس پر پولیس کو ہراساں کرنے سے روک دیا گیا۔



















