بھارتی فوج کا سید علی گیلانی کی میت پر قبضہ، دفنانے کے بعد قبرستان سیل کردیا

تحریک آزادی کشمیر کے بانی اور مرکزی حریت رہنما سید علی گیلانی کو سخت سکیورٹی میں سپرد خاک کر دیا گیا، اس موقع پر سخت کرفیو نافذ کردیا گیا تھا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی کو سخت سکیورٹی میں صبح سپردخاک کیا گیا ہے، قابض بھارتی فورسز نے جنازے اور تدفین میں صرف پڑوسیوں اور قریبی رشتے داروں کو شرکت کی اجازت دی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سید علی گیلانی کو حیدر پورہ کے قبرستان میں صبح ساڑھے 4 بجے سپرد خاک کیا گیا، بھارتی فورسز نے حیدر پورہ قبرستان کو بھی سیل کر دیا ہے۔
تدفین سے قبل بھارتی فوج کی جانب سے پورے مقبوضہ کشمیر میں ہر قسم کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
دوسرہ طرف سید علی گیلانی کے نمائندہ خصوصی عبداللہ گیلانی کا کہنا ہے انہیں نہیں معلوم بھارتی فورسز نے علی گیلانی کی تدفین کہاں کی۔
اپنے ایک ویڈیو بیان میں عبداللہ گیلانی کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے سید علی گیلانی کا جسد خاکی قبضے میں لیا اور ہمیں نہیں معلوم کہ سید علی گیلانی کی تدفین کہاں کی گئی ہے۔عبداللہ گیلانی کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ پر تشدد بھی کیا گیا، اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ سید علی گیلانی کی تدفین ان کی خواہش کے مطابق مزار شہداء میں کرنے کی اجازت دی جائے۔
علاوہ ازیں قابض بھارتی فوج کی جانب سے سید علی گیلانی کی میت ان کے گھر سے زبردستی لے جانے کے مناظر سامنے آگئے ہیں۔ وڈیو میں اہلخانہ کو چیخ پکار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔قابض بھارتی فوج نے علی گیلانی کے اہلخانہ پر تشدد کیا اور انہیں ایک کمرے میں بند کردیا۔
اہلخانہ کا مطالبہ تھا کہ علی گیلانی کی تدفین ان کی خواہش کے مطابق مزار شہداء میں کرنے دی جائے، لیکن بھارتی فوج نے رات کے اندھیرے میں حیدر پورہ قبرستان میں ان کی تدفین کردی، علی گیلانی کی میت پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹی گئی تھی۔
اہل خانہ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے پورے جموں و کشمیر کو بند کر دیا ہے، وادی میں کرفیو نافذ کر کے مواصلاتی رابطے بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔


















