بیوروکریسی کی طاقت : وزیرا عظم کے احکامات ہوا میں اڑدئے گئے، پیپکو کا خاتمہ نہ ہوا

طاقتور بیوروکریسی نے وزیر اعظم کے پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی(پیپکو)کے خاتمے کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے۔
بیوروکریٹس نے نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے باوجود پیپکو کو کسی نہ کسی شکل میں قائم رکھنے اور اختیارات اپنے پاس رکھنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی بچت مہم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 200 اعلیٰ افسران کو بجلی کی اپنی اپنی کمپنیوں میں نہ بھیجا ، جس کی وجہ سے اضافی الاؤنسز کی مد میں پاور سیکٹر کو ماہانہ کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایاجارہاہے۔
ذرائع کے مطابق مارچ 2021ء کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم پاکستان نے پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی کو ختم کرنے اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں دوسری کمپنیوں کے خدمات سرانجام دینے والے 200 افسران کو واپس اپنی اپنی کمپنیوں میں بھیجنے کے احکامات دیئے تھے ، اور ان احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لئے دو ہفتوں کا وقت مقرر کیا تھا۔
لیکن پیپکو کی طاقتور بیوروکریسی نے ریٹائر ہوکر بھاری مشاہرے پر دوبارہ کنٹریکٹ حاصل کرنے والے جنرل منیجر ایچ آر صغیر احمد کی سربراہی میں پیپکو کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی اپریل 2021ء میں منعقدہ میٹنگ میں افسران کو ان کی پیرنٹ کمپنیوں میں واپس بھیجنے کا ایجنڈا پیش کیا اور نہ ہی پیپکو ہیڈ کوارٹر میں خدمات سرانجام دینے والے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے جنرل منیجرز، چیف انجنئیر اور سپرنٹنڈنگ انجینیرز کو واپس بھیجا ، بلکہ عمران خان کے سخت اعلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا بے جا اور ناجائز استعمال جاری رکھتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ایکسین گریڈ 18 سے ایس ای گریڈ 19 کے عہدے پر ترقی دینے کے لئے پروموشن بورڈ کے انعقاد کے لئے فہرست جاری کرتے ہوئے کاغذات مانگ لئے جس پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔
ذرائع کا کہناہے کہ ڈیلی ویجز پر خدمات سرانجام دینے والے جنرل مینیجر صغیر احمد نے پورے پاور سیکٹر کی بجلی کمپنیوں کے اختیارات اپنی مٹھی میں رکھے ہوئے ہیں اور پیپکو کو یرغمال بنایاہواہے جس پر اپنی اپنی کمپنیوں میں واپس جانے کے خواہشمند گریڈ 19 تا گریڈ 21 کے درجنوں افسران کی واپسی کا معاملہ التواء کا شکار ہوگیا ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ملک کی سب سے بڑی بجلی کی تقسیم کارکمپنی میپکو میں سب سے زیادہ 46 دوسری
کمپنیوں کے افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، جنکی ناقص کارکردگی سے نہ صرف میپکو کی کارکردگی پنجاب کی بری ترین کمپنی کے طور پر کیاجارہاہے اور ان افسران کوملنے والے اضافی الاؤنسز اور دوہری سہولیات کے باعث کمپنی کو ماہانہ کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایاجارہاہے۔
گریڈ 19 کے افسران ایس ایز/ڈائریکٹرزاضافی الاؤنسز کی مد میں تقریبا سوا سے ڈیڑھ لاکھ روپے، گریڈ 20 کے چیف انجینیرز/ڈائریکٹر جنرل اڑھائی سے تین لاکھ روپے اور گریڈ 21 کے جنرل مینیجرز 4 سے 5 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہوں کے علاوہ الاؤنسز لیکر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں۔
جسکی وجہ سے نقصان میں جانے والی بجلی کمپنیاں افسران کی عیاشیوں پر کروڑوں روپے ماہانہ لٹارہی ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کی رقم 2300 ارب روپے تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا ، اور فوری طورپر بجلی کمپنیوں کو خسارے سے نکالنے اور افسران کو ان کی اپنی کمپنیوں میں واپس بھیجنے کے احکامات دیئے تھے، لیکن پیپکو کی طاقتور اور بااثر بیوروکریسی نے وزارت توانائی کو بھی لا علم رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال جاری رکھا ہوا ہے اور پاور سیکٹر میں اپنی من مرضی کے احکامات جاری کرتے ہوئے پیپکو کو قائم رکھا ہوا ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ دوہری تنخواہیں اور الاؤنسز لینے والے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران نہ صرف سرکاری رہائش گاہوں،گاڑیوں اور سرکاری ملازمین کو ذاتی استعمال میں لیکر مزے لوٹ رہے ہیں بلکہ وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر دونوں ہاتھوں سے وسائل کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔


















