تنقید کے نشتر برداشت نہ ہوئے ، اے ایس اے کے اجلاس میں اساتذہ دست وگریباں ہوگئے

زکریا یونیورسٹی کی اے ایس اے کی جنرل باڈی اجلاس میں اساتذہ میں ہاتھا پائی ہوگئی، جس کی وجہ سے سارے اجلاس میں بدمزگی کا تاثر رہا، صدر کی طرف سے فرعون کا لفظ استعمال کرنے پر سینئر اساتذہ طیش میں آگئے جس پر اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن تحلیل کر دی گئ اور نئی الیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا ،جس کے مطابق شعبہ کیمسٹری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یعقوب چئرمین ہوں گے۔
گزشتہ روز اجلاس کے شروع ہی سے اے ایس اے کی کارکردگی کو خاصہ تنقید کا نشانہ بنایااور اس اے ایس اے کے اٹھارہ ماہ کے عرصہ کو مخصوص افراد کو نوازنے، اقربا پروری، خواتین کولیگز کو ہراساں کرنے کے حوالہ سے بدترین دور قرار دیا گیا ۔
یوٹی ایف (یونیورسٹی ٹیچرز فوم ) کے اساتذہ ڈاکٹر محمد ریاض ، پروفیسر ڈاکٹر آصف یاسین، ڈاکٹر زبیر ، ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی ، پروفیسر ڈاکٹر حسن بچہ اور ڈاکٹر حماد رسول، ڈاکٹر عمر چوہدری ، ڈاکٹر احسان بھابھہ اور پروفیسر ڈاکٹر عابد لطیف نے شدید تنقید کی ۔
اجلاس کے شروع میں بہت سے اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ اےایس اے اپنے گزشتہ سال کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرے جسے اے ایس اے ایگزیکٹو باڈی کے ممبران نے مسترد کردیا جس سے تلخی شروع ہوگئی ۔
ڈاکٹر ریاض نے گیپ پیریڈ اور گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ پر انتظامیہ پر تنقید کی جس پر چیئرمین ہال کونسل پروفیسر ڈاکٹر اکبر انجم نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی. انہوں نے سابق رجسٹرار ڈاکٹر عمر چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے ان پر گھر کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام لگایا جس پر ڈاکٹر عمر چوہدری نے جوابی وار کرتے ہوئے انہیں چیلنج دیا کہ کوئی شخص بھی جاکر رجسٹرار آفس سے ریکارڈ چیک کرلے اور اگر ذرا سی بھی بے قاعدگی پائی گئی تو وہ اپنے گھر کے الاٹمنٹ سے دستبردار ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی نے کنٹریکٹ اساتذہ کے مستقل ہونے کے معاملے پر اے ایس اے کی جانب سے سرد مہری پر ایسوسی ایشن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے ان کا کہنا تھا کہ بروقت سلیکشن بورڈ منعقد نہ ہونے کی وجہ سے سیٹیں ریڈنڈنٹ ہوگیئں اور بہت سے اساتذہ ترقی سے محروم رہ گئے۔
ڈاکٹر آصف یاسین نے کہا کہ کہ ایک "من پسند شخص” کی ترقی کے لیے سنڈیکیٹ کی میٹنگ کے انعقاد میں تاخیر کی گئی اور ایک اور سلیکشن بورڈ کروا کر "من پسند شخص” کو ترقی دی گئی تاکہ اسکی سینیارٹی برقرار رہے اے ایس اے رواں سال کے بجٹ میں پیپر چیکنگ اور پیپر سیٹنگ کا معاوضہ بڑھوانے میں ناکام رہی۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن بچہ کا کہنا تھا کہ بہت سے اساتذہ کی ترقی روکنے کیلئے دانستہ طور پر اسکروٹنی رکوائی گئی ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ ایم فل کا تجربہ صرف من پسند افراد کیلئے تسلیم کیا گیا اور باقی افراد کو پھنسا کر انکی ترقی دانستہ طور پر رکوائی گئی۔
پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر نے کہا کہ سکروٹنی میں جانبداری کرتے ہوئے بہت سے اساتذہ کو غلط نااہل کیا گیا۔ ایسے میں صرف ایک ٹیچر ڈاکٹر احسان قادر بھابھا نے اساتذہ کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا اور باہمی جھگڑے افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا۔
جس سے تلخی کم ہوئی مگر ڈاکٹر حماد رسول نے منتخب ممبران پر اے ایس اے کو ذاتی فوائد کیلئے استعمال کرنے کے الزام پر معاملات پھر بگڑ گئےانہوں ڈاکٹر خاور نوازش کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شعبہ اردو میں اپنے اساتذہ کو بائی پاس کرتے ہوئے ترقی لی اور ان سےسینئر ہونے کی کوشش کی۔
آخر میں صدر اے ایس اے ڈاکٹر عبدالستار ملک نے اپنی تقریر میں تمام عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابات دینے کی کوشش کی تاہم اس دوران اس وقت بدمزگی پیدا ہوئی ، جب انہوں نے کچھ اساتذہ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فرعون کا لقب دیا جس پر انجنئیرنگ کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عابد لطیف کھڑے ہو گئے اور وہ سٹیج پرچڑھ دوڑے صدر اے ایس اے کی جانب سے اساتذہ کو فرعون کا لقب دینے پر شدید احتجاج کیا، جس پر بہت سے اور اساتذہ بھی سٹیج پر چڑھ گئے شدید جھگڑے کی صورتحال میں ہال کمرےسے تمام نان فیکلٹی ممبران اور سیکورٹی عملے کو باہر نکال دیا گیا اور دروازے بند کردئے گئے۔ تاہم سینئر اساتذہ کی مداخلت پر معاملہ رفع دفع ہوا۔



















